اسلام آباد: واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے ہائیڈرو مکینیکل ورکس کے ایک بڑے پیکیج کے لیے تقریباً 133 ارب روپے کا معاہدہ چینی کمپنیوں کے مشترکہ منصوبے کو دے دیا ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق ایچ ایم ون پیکیج میں ڈیم کے مختلف گیٹس، اسٹیل اسٹرکچرز اور ان سے منسلک ہائیڈرو مکینیکل آلات کی ڈیزائننگ، تیاری، فراہمی اور تنصیب شامل ہے۔
معاہدے پر واپڈا اور پاور چائنا و اس کے شراکت دار ادارے کے نمائندوں نے دستخط کیے۔ یہ پیکیج دیامر بھاشا کے مرکزی سول ورکس کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھے گا، اس لیے ہائیڈرو مکینیکل آلات کی بروقت تیاری اور تنصیب منصوبے کی مجموعی تعمیراتی پیش رفت کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم دریائے سندھ پر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے سنگم کے قریب زیر تعمیر ایک کثیرالمقاصد منصوبہ ہے۔ منصوبے سے پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ 4,500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ڈیم کی تعمیر سے آبپاشی کے لیے پانی کی دستیابی، سیلابی بہاؤ کے انتظام اور پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کی توقع ظاہر کی جاتی رہی ہے۔
واپڈا کے مطابق منصوبے کے مختلف تعمیراتی حصوں پر بیک وقت کام جاری ہے اور بڑے کنٹریکٹس مرحلہ وار دیے جا رہے ہیں۔ تازہ معاہدہ بنیادی طور پر مکینیکل اور اسٹیل نظام سے متعلق ہے، اس لیے اسے منصوبے کی تکمیل کا اعلان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ منصوبے کی حتمی لاگت، تعمیراتی شیڈول اور بجلی کی پیداوار شروع ہونے کا وقت باقی کام، مالی انتظامات اور تکنیکی پیش رفت سے مشروط رہے گا۔

