اسلام آباد: ورلڈ بینک کا آزاد انسپیکشن پینل 2 سے 10 نومبر 2026 تک پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے تحت زیر تعمیر 765 کلو وولٹ ٹرانسمیشن لائن سے متعلق پنجاب کے دو دیہات کے 15 افراد کی شکایات کا جائزہ لیا جا سکے۔ شکایت کنندگان نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں زمین کے لیے ناکافی معاوضہ پیش کیا گیا، آبائی اراضی کی معاشی قدر شدید متاثر ہوئی اور ہائی وولٹیج لائن کی قربت سے حفاظتی خطرات پیدا ہوئے۔ یہ الزامات شکایت کنندگان کے ہیں اور پینل کا موجودہ مرحلہ ان کی حتمی توثیق یا ورلڈ بینک کی ذمہ داری کا فیصلہ نہیں ہے۔
شکایت 24 جولائی 2026 کو داسو ہائیڈرو پاور اسٹیج ون کے لیے اضافی فنانسنگ کے تحت ٹرانسمیشن لائن منصوبے سے متعلق جمع کرائی گئی تھی۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ پنجاب کے ٹانڈہ علاقے میں ان کی زرعی زمینوں سے گزرنے والی لائن کے رائٹ آف وے کے باعث تعمیرات اور درختوں کی اونچائی پر پابندیاں عائد ہوئی ہیں، جس سے باقی ماندہ زمین کے استعمال اور مستقبل کی ترقی کی صلاحیت کم ہوئی۔ انہوں نے زمین کی قدر میں تقریباً 80 فیصد کمی کا تخمینہ بھی پیش کیا ہے، تاہم یہ شکایت کنندگان کا دعویٰ ہے، کوئی حتمی آزاد تخمینہ نہیں۔
درخواست میں رہائشی علاقوں، زرعی زمین اور تجارتی املاک کے قریب ہائی وولٹیج لائن کے حوالے سے بچوں سمیت مقامی آبادی کی حفاظت پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ شکایت کنندگان نے منصوبے کی تیاری کے دوران مشاورت اور بحالی کے ایکشن پلان سے متعلق معلومات کی فراہمی کو بھی ناکافی قرار دیا ہے۔
انسپیکشن پینل نے ابتدائی جانچ کے دوران 21 اگست کو شکایت کنندگان اور 26 اگست کو ورلڈ بینک انتظامیہ سے ملاقات کی تھی۔ پینل نے درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے 11 ستمبر کو رجسٹر کیا۔ اب پاکستان کا دورہ eligibility assessment کا حصہ ہے، جس میں دستاویزات اور مختلف فریقوں کے مؤقف دیکھ کر یہ سفارش کی جائے گی کہ آیا مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس مرحلے پر مکمل تحقیقات کی منظوری نہیں ہوئی۔
ورلڈ بینک کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر نے وزارت توانائی سے 5 نومبر کو ملاقات کی درخواست کی ہے تاکہ منصوبے کے وسیع تناظر اور شکایات پر حکومتی مؤقف کو سمجھا جا سکے۔ پینل وزارت اقتصادی امور، وزارت توانائی، نیشنل گرڈ کمپنی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ دوسرے اسٹیک ہولڈرز سے بھی ملاقاتیں کرے گا۔
داسو ہائیڈرو پاور اسٹیج ون میں دریائے سندھ پر 2,160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا منصوبہ شامل ہے۔ اپریل 2020 میں ورلڈ بینک نے بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 700 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ منظور کی تھی۔ متعلقہ ٹرانسمیشن جزو میں داسو سے اسلام آباد ویسٹ سب اسٹیشن تک تقریباً 255 کلومیٹر طویل 765 کلو وولٹ لائن اور مانسہرہ میں سب اسٹیشن شامل ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق انسپیکشن پینل ایک آزاد شکایتی نظام ہے اور اس کا کردار بینک سے مالی اعانت یافتہ منصوبوں سے ممکنہ متاثرہ افراد کی شکایات کا غیر جانب دار جائزہ لینا ہے۔
