عالمی بینک نے اپنی تازہ پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اگر ساختی اصلاحات کی رفتار تیز کرے، نجی سرمایہ کاری کے لیے رکاوٹیں کم کرے اور پیداواری صلاحیت میں مسلسل اضافہ کرے تو 2050 تک ملک کی فی کس آمدنی تقریباً تین گنا ہونے کی گنجائش موجود ہے۔ اکتوبر 2026 کی رپورٹ کا عنوان ’Attaining Escape Velocity‘ ہے اور اس میں حالیہ میکرو اکنامک استحکام کو زیادہ تیز اور دیرپا ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے پالیسی ترجیحات بیان کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق استحکام بذاتِ خود بلند شرحِ نمو کی ضمانت نہیں ہے۔ پاکستان کو سرمایہ کاری، کاروباری مسابقت، برآمدات، انسانی سرمائے اور ادارہ جاتی کارکردگی میں ایسے اقدامات درکار ہیں جو نجی شعبے کو نئے کاروبار، روزگار اور پیداواری سرمایہ کاری کی طرف راغب کریں۔ عالمی بینک نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی کے لیے معیشت کو بار بار کے توازنِ ادائیگی اور مالی دباؤ کے چکروں سے نکالنا ضروری ہے۔
عالمی بینک کا تین گنا آمدنی کا تخمینہ کسی طے شدہ نتیجے کی پیش گوئی نہیں بلکہ اصلاحات کے کامیاب اور مسلسل نفاذ سے مشروط منظرنامہ ہے۔ اس کے لیے پالیسی میں تسلسل، بہتر محصولات، مؤثر سرکاری اخراجات، توانائی اور کاروباری ماحول میں بہتری، خواتین اور نوجوانوں کی معاشی شرکت اور برآمدی مسابقت جیسے شعبوں میں پیش رفت درکار ہوگی۔ اصلاحات میں تاخیر یا عالمی و داخلی جھٹکے اس راستے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور مالی نظم سے متعلق بعض اشاریوں میں استحکام حاصل کیا ہے، لیکن فی کس آمدنی، روزگار کے معیار اور سرمایہ کاری کی شرح جیسے بنیادی چیلنج برقرار ہیں۔ رپورٹ اسی فرق کو نمایاں کرتی ہے کہ قلیل مدتی استحکام کو طویل مدتی خوشحالی میں بدلنے کے لیے معیشت کی ساخت اور اداروں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔
عالمی بینک کی تجویز کردہ سمت میں نجی شعبے کو مرکزی کردار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت بڑھانے والی اصلاحات مستقل انداز میں نافذ ہوں تو پاکستان زیادہ تیز شرحِ نمو، بہتر ملازمتوں اور بلند آمدنی کی طرف بڑھ سکتا ہے، تاہم اس ہدف کی کامیابی عملی نفاذ اور سیاسی و معاشی تسلسل پر منحصر رہے گی۔
