اسلام آباد: پاکستان کی مسلح افواج نے یومِ دفاع و شہدا کے موقع پر ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا تیز اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے بیان کے مطابق 6 ستمبر قومی اتحاد، حوصلے اور عزم کی علامت ہے اور یہ دن اُن نسلوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانیں پیش کیں۔

بیان میں چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا اور مسلح افواج کی جانب سے شہدا، غازیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ عسکری قیادت نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں قومی طاقت اور حوصلے کا مستقل سرچشمہ ہیں، جبکہ غازیوں کی خدمات اور شہدا کے خاندانوں کا صبر و استقامت قوم کے لیے قابلِ قدر مثال ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر قائم ہے۔ تاہم بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ امن کی اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ مسلح افواج نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پیشہ ورانہ معیار، نظم و ضبط اور غیر متزلزل ارادے کے ساتھ اپنی آئینی ذمہ داریاں انجام دیتی رہیں گی۔

یومِ دفاع پاکستان میں 1965 کی جنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر سرکاری اور عسکری تقریبات میں شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور قومی دفاع سے متعلق عزم کو دہرایا جاتا ہے۔ موجودہ بیان میں بھی توجہ اس نکتے پر مرکوز رہی کہ دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ علاقائی امن کی حمایت پاکستان کی پالیسی کا حصہ ہے۔ یہ بیان کسی نئی فوجی کارروائی کے اعلان کے بجائے دفاعی تیاری، قومی عزم اور شہدا کی یاد کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے۔