اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستان مالیاتی پائیداری، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری اور سماجی تحفظ کے اہداف پر عمل جاری رکھے گا، جبکہ حکومت جامع اور ماحول دوست معاشی نمو کو بھی اپنی پالیسی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ایوان صدر کے سرکاری بیان کے مطابق ملاقات 20 اکتوبر کو ہوئی اور آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جہاد ازعور نے وفد کی قیادت کی۔ وفد میں پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا اور ریزیڈنٹ نمائندہ ماہر بنجی بھی شامل تھے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر حکومتی و پارلیمانی شخصیات بھی ملاقات میں موجود تھیں۔

صدر نے آئی ایم ایف کے ساتھ جاری تعاون کو سراہتے ہوئے توسیعی فنڈ سہولت اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت اصلاحاتی پروگرام کا ذکر کیا۔ انہوں نے چوتھے ای ایف ایف جائزے اور تیسرے آر ایس ایف جائزے کے بعد اسٹاف لیول معاہدے کو معاشی بحالی اور استحکام کی جانب پیش رفت قرار دیا۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری اس عمل کا الگ اور ضروری مرحلہ ہے، اس لیے اسٹاف لیول معاہدے کو حتمی فنڈ اجرا کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

ایوان صدر کے مطابق صدر زرداری نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت کا حجم 452.1 ارب ڈالر تک پہنچا اور حقیقی جی ڈی پی نمو 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال میں 3.2 فیصد تھی۔ انہوں نے مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک آنے اور مسلسل تیسرے سال بنیادی سرپلس ریکارڈ ہونے کا بھی حوالہ دیا۔ یہ اعداد سرکاری بیان میں پیش کیے گئے ہیں۔

صدر نے محصولات بڑھانے، ٹیکس انتظامیہ بہتر بنانے، سرکاری اداروں میں اصلاحات، معیشت کی دستاویز بندی، محصولات کی وصولی کو ڈیجیٹل بنانے اور ٹیکس چوری محدود کرنے کے اقدامات جاری رکھنے کی بات کی۔ جہاد ازعور نے میکرو اکنامک استحکام اور پائیدار نمو کے لیے اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے جاری پروگراموں کے تحت پالیسی اہداف اور جائزوں سے منسلک ہے۔ آئندہ مالی معاونت اور پروگرام کی پیش رفت کا انحصار متعلقہ جائزوں کی باضابطہ منظوری اور طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کے مراحل پر ہوگا۔