دوشنبے: پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک سے کہا ہے کہ باہمی تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو تیز کیا جائے اور علاقائی ترقیاتی بینک، ترقیاتی فنڈ اور سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کے لیے عملی پیش رفت کی جائے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہ تجاویز تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے 25ویں اجلاس سے خطاب میں پیش کیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ رکن ممالک کے درمیان اقتصادی روابط بڑھانے کے لیے نقل و حمل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے علاقائی رابطہ کاری کے ساتھ زراعت، کان کنی، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان شعبوں میں مشترکہ منصوبے خطے کے اندر تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو زیادہ پائیدار بنا سکتے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے باہمی ادائیگیوں میں قومی کرنسیوں کے استعمال کی کوششیں تیز کرنے کی بات کرتے ہوئے ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک، ڈویلپمنٹ فنڈ اور انویسٹمنٹ فنڈ کے قیام کی حمایت دہرائی۔ یہ تجاویز تنظیم کے اندر اقتصادی تعاون کے لیے زیر بحث مختلف مالیاتی طریقہ کار کا حصہ ہیں؛ ان اداروں کے قیام کو اس مرحلے پر مکمل شدہ فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ ان کے لیے رکن ممالک کے درمیان مزید اتفاق اور عملی انتظامات درکار ہوں گے۔

اسحاق ڈار نے عالمی تجارت میں تحفظ پسند پالیسیوں اور یکطرفہ اقتصادی اقدامات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ عالمی مالیاتی ڈھانچے اور تجارتی نظام میں اصلاحات زیادہ مساوی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی غیر یقینی صورت حال میں علاقائی اقتصادی تعاون کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کے علاوہ چین، روس، بھارت اور وسطی ایشیا سمیت یوریشیا کی متعدد ریاستیں شامل ہیں۔ تنظیم بنیادی طور پر سلامتی، تجارت اور ترقی کے شعبوں میں تعاون کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کی تازہ تجاویز کا عملی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ دیگر رکن ممالک مقامی کرنسیوں کے تصفیے اور مشترکہ مالیاتی اداروں کے ڈھانچے پر کس حد تک اتفاق کرتے ہیں۔