اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ربی 2026-27 کے دوران یوریا کی مجموعی کھپت تقریباً 35 لاکھ 96 ہزار ٹن رہنے کا تخمینہ لگایا ہے، جو گزشتہ ربی سیزن کے 35 لاکھ 63 ہزار ٹن کے مقابلے میں تقریباً 0.9 فیصد زیادہ ہے۔ سرکاری دستاویزات میں ڈی امونیم فاسفیٹ، ڈی اے پی، کی متوقع کھپت 8 لاکھ 38 ہزار ٹن بتائی گئی ہے، جو گزشتہ سیزن کے مقابلے میں تقریباً 0.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت فرٹیلائزر ریویو کمیٹی کے اجلاس میں جاری ربی سیزن کے لیے کھاد کے ذخائر، مقامی پیداوار، قیمتوں، تقسیم اور متوقع طلب کا جائزہ لیا گیا۔ وزارت کے مطابق حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ گندم کی بوائی سمیت اہم زرعی سرگرمیوں کے دوران یوریا اور ڈی اے پی بروقت دستیاب رہیں۔
سرکاری تخمینے کے مطابق ربی سیزن میں یوریا کی مجموعی دستیابی تقریباً 39 لاکھ 50 ہزار ٹن ہوسکتی ہے، جس میں تقریباً 7 لاکھ 65 ہزار ٹن ابتدائی ذخیرہ اور 31 لاکھ 85 ہزار ٹن مقامی پیداوار شامل ہے۔ اس حساب سے یوریا کی متوقع دستیابی طلب سے زیادہ رہتی ہے۔ دوسری طرف ڈی اے پی کی دستیابی تقریباً 7 لاکھ 66 ہزار ٹن بتائی گئی ہے جبکہ متوقع کھپت 8 لاکھ 38 ہزار ٹن ہے، اس لیے اس کھاد کی فراہمی اور ممکنہ درآمد یا اضافی انتظامات پر مسلسل نگرانی اہم ہوگی۔
رانا تنویر حسین نے اجلاس میں کہا کہ مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور بلاجواز قیمتوں میں اضافہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری میں ملوث عناصر کے خلاف مناسب کارروائی ہونی چاہیے۔ یہ حکومتی پالیسی اور انتظامی ہدایت ہے؛ مارکیٹ میں کسی مخصوص کمپنی یا ڈیلر کے خلاف خلاف ورزی ثابت ہونے کی اطلاع اس اجلاس میں الگ سے نہیں دی گئی۔
ربی پاکستان کے زرعی کیلنڈر کا اہم موسم ہے، جس میں گندم سمیت بڑی فصلیں کاشت ہوتی ہیں اور کھاد کی بروقت دستیابی پیداوار پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ موجودہ اعداد تخمینے ہیں، اس لیے اصل کھپت، مقامی پیداوار اور درآمدی ضرورت موسم، فصلوں کے رقبے، قیمتوں اور کسانوں کی خریداری کے مطابق تبدیل ہوسکتی ہے۔ حکومت نے کمیٹی کے ذریعے سپلائی چین اور قیمتوں کی نگرانی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
