اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کے تعین میں استعمال ہونے والے کریک اسپریڈ کی بالائی حد کم کرکے 38 ڈالر فی بیرل مقرر کردی ہے۔ اوگرا کی روزانہ قیمت اپ ڈیٹ کے مطابق اس سے قبل بالائی حد 41.89 ڈالر فی بیرل تھی، جبکہ زیریں حد 11.33 ڈالر فی بیرل برقرار رکھی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کے لیے 38 ڈالر فی بیرل کو زیادہ سے زیادہ قابل اطلاق کریک اسپریڈ سمجھا جائے گا۔ قیمت کے تعین میں متعلقہ سات کاروباری دنوں کا اوسط استعمال ہوگا اور یہ اوسط مقررہ بالائی حد سے تجاوز نہیں کرے گا۔ خام تیل کی بنیاد پر تیار کیا گیا نظرثانی شدہ قیمت سازی کا طریقہ مزید تین ماہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اوگرا نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر جغرافیائی سیاسی حالات بہتر ہوتے ہیں اور عالمی قیمتوں میں تیزی سے کمی آتی ہے تو حکومت تین ماہ کی مدت پوری ہونے سے پہلے بھی اس طریقہ کار پر دوبارہ غور کرسکتی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے دیگر پیرامیٹرز موجودہ طریقہ کار کے مطابق برقرار رہیں گے۔

یہ تبدیلی مقامی ریفائنریوں کے ساتھ طے پانے والے انتظام کے تناظر میں سامنے آئی ہے جس کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل میں ریفائننگ مارجن کے ایک جزو کو محدود کیا گیا۔ صنعت کے تخمینوں کے مطابق مقامی ریفائنریوں نے 20 اگست سے ڈیزل کے کریک اسپریڈ پر حد قبول کرکے بلند بین الاقوامی مارجن کا پورا فائدہ نہ لینے کی وجہ سے حکومت کی قیمت محدود رکھنے کی کوششوں میں تقریباً 22 ارب روپے کا حصہ ڈالا۔ یہ رقم صنعت کے حسابات پر مبنی تخمینہ ہے، اسے سرکاری آڈٹ شدہ مالی نتیجہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

کریک اسپریڈ بنیادی طور پر خام تیل اور تیار شدہ ایندھن کی قدر کے درمیان فرق کی پیمائش ہے اور قیمت سازی میں ریفائننگ مارجن کے تعین پر اثر ڈالتا ہے۔ نئی بالائی حد کا مقصد ڈیزل کے قیمت فارمولے میں اس جزو کو محدود رکھنا ہے، تاہم صارف کے لیے حتمی خوردہ قیمت عالمی تیل، شرح مبادلہ، ٹیکسوں، لیویز اور دیگر منظور شدہ اجزا سے بھی متاثر ہوتی ہے۔