اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ سرکاری ڈاک ادارہ پاکستان پوسٹ سالانہ تقریباً 12 ارب روپے کے خسارے کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے اخراجات بھی مجموعی حساب میں شامل کیے جائیں تو مالی بوجھ تقریباً 18 سے 19 ارب روپے سالانہ تک پہنچ سکتا ہے۔
وزیر مواصلات نے ایوان کو پاکستان پوسٹ کی مالی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑا فرق موجود ہے۔ ملک بھر میں ڈاک خانوں کا وسیع نیٹ ورک، تنخواہیں، آپریشنل اخراجات اور پنشن ذمہ داریاں ادارے کے مالی ڈھانچے پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے اعدادوشمار پارلیمانی کارروائی کے دوران پیش کیے، جس سے سرکاری ڈاک سروس کی اصلاح اور مالی پائیداری کا مسئلہ ایک بار پھر نمایاں ہوا ہے۔
پاکستان پوسٹ روایتی خطوط اور پارسل کی ترسیل کے علاوہ منی آرڈرز اور مختلف سرکاری و مالی خدمات فراہم کرتا رہا ہے، لیکن نجی کورئیر کمپنیوں، ڈیجیٹل رابطوں اور آن لائن ادائیگی کے نظام کے پھیلاؤ نے روایتی ڈاک خدمات کے کاروباری ماڈل کو تبدیل کردیا ہے۔ ایسے ماحول میں سرکاری ادارے کے لیے اپنے بڑے فزیکل نیٹ ورک کو برقرار رکھتے ہوئے آمدن بڑھانا ایک اہم انتظامی چیلنج ہے۔
سینیٹ میں دی گئی معلومات مالی خسارے کی موجودہ سطح کی سرکاری وضاحت فراہم کرتی ہیں، تاہم ادارے کی ممکنہ تنظیم نو، ملازمین یا شاخوں سے متعلق کسی مخصوص فیصلے کو اس بیان سے اخذ نہیں کیا جا سکتا جب تک حکومت باضابطہ پالیسی یا منصوبہ جاری نہ کرے۔ خسارے کے اعداد کو بھی پنشن کے ساتھ اور پنشن کے بغیر الگ الگ سمجھنا ضروری ہے: بنیادی سالانہ خسارہ تقریباً 12 ارب روپے بتایا گیا جبکہ پنشن شامل کرنے پر مجموعی بوجھ 18 سے 19 ارب روپے تک ہونے کی بات کی گئی۔
پاکستان پوسٹ کی مالی پائیداری بہتر بنانے کے لیے مستقبل کی حکمت عملی میں خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن، ای کامرس لاجسٹکس، اثاثوں کے بہتر استعمال اور آپریشنل اخراجات کے انتظام جیسے شعبے اہم ہوسکتے ہیں، لیکن ان میں سے کسی اقدام کی حتمی شکل متعلقہ حکومتی فیصلوں سے ہی واضح ہوگی۔
