واشنگٹن/مونٹریال: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی طیارہ ساز کمپنی بمبارڈیئر کو امریکی مارکیٹ سے روکنے کی اپنی سابقہ دھمکی واپس لے لی ہے۔ منگل کو انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد کمپنی کے کینساس میں موجود کارکنوں کو نقصان پہنچانا نہیں اور وہ ان ملازمین کے مفادات کا خیال رکھنا چاہتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق یہ بیان امریکا اور کینیڈا کے درمیان صنعتی اور تجارتی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ بمبارڈیئر کاروباری جیٹ طیاروں کی بڑی عالمی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور امریکا میں اس کے آپریشنز اور ملازمتیں بھی موجود ہیں۔ اسی وجہ سے کسی ممکنہ مارکیٹ پابندی کا اثر صرف کینیڈین کمپنی پر نہیں بلکہ امریکی سپلائی چین اور کارکنوں پر بھی پڑ سکتا تھا۔

ٹرمپ نے اس سے پہلے کمپنی کو امریکی مارکیٹ تک رسائی سے روکنے کی دھمکی دی تھی، لیکن تازہ بیان میں انہوں نے اس موقف کو نرم کیا۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ صدر نے کینساس میں بمبارڈیئر کے کارکنوں کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے۔ یہ تبدیلی تجارتی دباؤ اور مقامی روزگار کے درمیان امریکی انتظامیہ کے توازن کی کوشش کو ظاہر کرتی ہے۔

تاہم صدر کے سیاسی بیان اور کسی باضابطہ تجارتی یا ریگولیٹری فیصلے میں فرق موجود ہے۔ تازہ پیش رفت کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے مارکیٹ سے نکالنے کی دھمکی واپس لی ہے؛ اس سے کسی الگ قانونی تنازع، درآمدی ضابطے یا تجارتی شرط کے خودکار خاتمے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا جب تک متعلقہ حکام باضابطہ دستاویز جاری نہ کریں۔

کینیڈا اور امریکا کی فضائی صنعتیں سرحد پار سپلائی چین، پرزہ جات، سروس مراکز اور ہنرمند افرادی قوت کے ذریعے گہری طور پر منسلک ہیں۔ اس لیے بڑے طیارہ ساز اداروں کے خلاف تجارتی اقدامات دونوں ممالک میں کاروبار اور ملازمتوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ کینساس امریکی ہوا بازی صنعت کا ایک اہم مرکز ہے اور بمبارڈیئر کی وہاں موجودگی صدر کے تازہ موقف میں نمایاں عنصر کے طور پر سامنے آئی۔

آئندہ مرحلے میں توجہ اس بات پر ہوگی کہ امریکی حکومت بمبارڈیئر کے ساتھ عملی تجارتی پالیسی میں کیا راستہ اختیار کرتی ہے۔ فی الحال واضح تبدیلی یہی ہے کہ صدر نے کمپنی پر امریکی مارکیٹ کی پابندی لگانے کی دھمکی سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا ہے۔