واشنگٹن: امریکی کمپنی فینکس ٹیلنگز نیویارک ریاست کے شہر روچسٹر میں 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کا تجارتی پیمانے کا ریئر ارتھ پروسیسنگ پلانٹ تعمیر کرے گی۔ نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے منگل کو منصوبے کا اعلان کیا، جو امریکا کی اہم معدنیات کی مقامی سپلائی چین بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکا حالیہ برسوں میں نایاب زمینی عناصر کی کان کنی، علیحدگی اور پروسیسنگ کی نئی صلاحیت پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد عالمی ریئر ارتھ سپلائی اور پروسیسنگ میں چین کے بڑے حصے پر امریکی انحصار کم کرنا اور دفاعی و صنعتی شعبوں کے لیے متبادل ذرائع پیدا کرنا ہے۔

ریئر ارتھ عناصر برقی گاڑیوں، جدید موٹروں، الیکٹرانکس، قابلِ تجدید توانائی کے آلات اور لڑاکا طیاروں سمیت متعدد اعلیٰ ٹیکنالوجی مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں۔ خام معدنیات کی دستیابی کے ساتھ ان کی پروسیسنگ اور خالص دھات یا مقناطیسی مواد میں تبدیلی کی صلاحیت بھی سپلائی چین کا اہم مرحلہ ہے، اسی لیے امریکا صرف نئی کانوں ہی نہیں بلکہ پروسیسنگ پلانٹس پر بھی توجہ دے رہا ہے۔

روچسٹر کا مجوزہ منصوبہ تجارتی پیمانے پر کام کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔ اعلان میں 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی مالیت بتائی گئی ہے۔ منصوبے کی مکمل پیداواری صلاحیت، سالانہ پیداوار اور تمام مالی مراعات کی تفصیلات اس ابتدائی رپورٹ میں بیان نہیں کی گئیں، اس لیے ان نکات کو بعد کے سرکاری یا کمپنی اعلانات سے واضح ہونا ہوگا۔

امریکی حکمت عملی فوری نتائج کے بجائے درمیانی مدت کی صنعتی تعمیر پر مبنی ہے۔ رائٹرز کے مطابق نئی امریکی ریئر ارتھ صلاحیت کا بڑا حصہ 2027 یا اس کے بعد فعال ہونے کی توقع ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ عالمی سپلائی میں چین کی موجودہ اہمیت مختصر مدت میں ختم نہیں ہوگی، تاہم نئے منصوبے طویل مدت میں خریداری اور پروسیسنگ کے متبادل راستے پیدا کر سکتے ہیں۔

فینکس ٹیلنگز کا روچسٹر منصوبہ اسی وسیع صنعتی پالیسی کی ایک نئی کڑی ہے۔ اس کی حقیقی معاشی اہمیت تعمیر کی رفتار، ٹیکنالوجی کی کارکردگی، خام مال کی مسلسل دستیابی اور تجارتی پیداوار کے آغاز کے بعد زیادہ واضح ہوگی۔