مسلسل اپ ڈیٹس

پی ایس او: مالی استحکام اور سپلائی معاہدے

پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) وفاقی حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ واجب الادا گردشی قرض کے تصفیے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ کمپنی نے رپورٹ کیا کہ فروری 2024 کے بعد قابل وصول واجبات میں مزید اضافہ رکا اور سال کے بعد پاور ڈویژن اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز سے تقریباً 36 ارب روپے وصول ہوئے؛ مارکیٹ شیئر دوبارہ 40 فیصد سے اوپر پہنچ گیا اور پی ایس او نے ریٹیل آؤٹ لیٹس کی آٹومیشن اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ سہولیات کے منصوبے بھی بتائے۔ اس پس منظر میں پاکستان اسٹیٹ آئل اور اٹک ریفائنری نے پیٹرولیم مصنوعات کی خرید و فروخت کے اپنے طویل مدتی (آف ٹیک) معاہدے کی مدت 30 جون 2030 تک بڑھا دی ہے۔ معاہدے کے تحت اٹک ریفائنری کی تیار شدہ مختلف مصنوعات پی ایس او کو فراہم ہوتی رہیں گی اور مقدار، معیار، ترسیل اور ادائیگی کی شرائط موجودہ معاہدے کے مطابق برقرار رہیں گی۔ کمپنیوں کا یہ طویل المعیاد انتظام ریفائنری کی پیداوار کو مارکیٹ تک پہنچانے اور پی ایس او کے لیے ملکی ذرائع سے ایندھن حاصل کرنے میں سہولت فراہم کرے گا، جس سے درآمدی ضرورت میں کچھ کمی ممکن ہے مگر ملک کی مجموعی طلب کی وجہ سے ایک ریفائنری یا ایک معاہدہ درآمدات کا متبادل نہیں بن سکتا۔ معاہدے کی مدت میں توسیع دونوں فریقوں کو منصوبہ بندی میں زیادہ یقین دیتی ہے، البتہ اس سے صارفین کے لیے کسی مخصوص قیمت کی ضمانت پیدا نہیں ہوتی۔

2 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

پی ایس او: مالی استحکام اور سپلائی معاہدے | اردو ہیڈ لائنز