کراچی: پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے پیٹرولیم مصنوعات کی خرید و فروخت سے متعلق اپنے طویل مدتی تجارتی معاہدے کی مدت 30 جون 2030 تک بڑھا دی ہے۔ کمپنیوں کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق توسیع شدہ انتظام کے تحت ریفائنری کی مختلف تیار شدہ مصنوعات پی ایس او کو فراہم ہوتی رہیں گی، جبکہ مقدار، معیار، ترسیل اور ادائیگی سے متعلق شرائط معاہدے کے مطابق نافذ رہیں گی۔
پی ایس او ملک کی سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں شامل ہے اور اس کا وسیع ریٹیل اور صنعتی سپلائی نیٹ ورک موجود ہے۔ اٹک ریفائنری مقامی خام تیل کو پراسیس کرکے پیٹرول، ڈیزل، ایوی ایشن فیول اور دیگر مصنوعات تیار کرتی ہے۔ دونوں کمپنیوں کے درمیان طویل مدتی آف ٹیک انتظام مقامی ریفائنری کی پیداوار کو مارکیٹ تک پہنچانے اور پی ایس او کے لیے ملکی ذرائع سے ایندھن حاصل کرنے کے حوالے سے اہم ہے۔
معاہدے میں توسیع ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان اپنے پیٹرولیم شعبے میں مقامی ریفائننگ صلاحیت، درآمدی ایندھن اور مصنوعات کے معیار سے متعلق اصلاحات پر کام کررہا ہے۔ مقامی ریفائنری سے مصنوعات کی مسلسل خریداری درآمدی ضرورت میں کسی حد تک کمی لانے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن ملک کی مجموعی طلب اتنی زیادہ ہے کہ صرف ایک ریفائنری یا ایک سپلائی معاہدہ درآمدات کا متبادل نہیں بن سکتا۔ حقیقی اثر ریفائنری کی عملی پیداوار، خام تیل کی دستیابی اور مارکیٹ کی طلب پر منحصر ہوگا۔
طویل مدت کے معاہدے دونوں فریقوں کے لیے منصوبہ بندی میں نسبتاً زیادہ یقین فراہم کرتے ہیں۔ ریفائنری کو اپنی پیداوار کے لیے ایک بڑا خریدار دستیاب رہتا ہے، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنی مقامی مصنوعات کی متوقع فراہمی کو اپنے سپلائی نیٹ ورک میں شامل کرسکتی ہے۔ تاہم پیٹرولیم مارکیٹ میں قیمتیں حکومتی پالیسی، بین الاقوامی خام تیل، شرح مبادلہ، ٹیکسوں اور ریفائننگ مارجن سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔ اس لیے معاہدے کی مدت میں توسیع کو صارفین کے لیے کسی مخصوص قیمت یا قیمت میں کمی کی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس پیش رفت کا بنیادی مقصد دونوں کمپنیوں کے درمیان مصنوعات کی خرید و فروخت کے موجودہ انتظام کو اگلے کئی برس تک جاری رکھنا ہے۔

