اسلام آباد: پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے دوطرفہ سرمایہ کاری تعاون کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے ترجیحی شعبوں میں ادارہ جاتی رابطہ تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ حکام کے درمیان ہونے والی تازہ مشاورت میں توانائی، بنیادی ڈھانچے، زراعت، لاجسٹکس اور دیگر ممکنہ سرمایہ کاری شعبوں میں ایسے منصوبوں کی نشاندہی اور تیاری پر زور دیا گیا جنہیں واضح تجارتی اور قانونی ڈھانچے کے ساتھ سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جاسکے۔
پاکستان گزشتہ چند برسوں سے خلیجی ممالک کے ساتھ حکومت سے حکومت اور نجی شعبے کی سطح پر سرمایہ کاری بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ متحدہ عرب امارات پاکستان کا اہم تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ہے اور بندرگاہوں، ٹیلی کمیونیکیشن، بینکاری، توانائی اور دیگر شعبوں میں اماراتی سرمایہ پہلے سے موجود ہے۔ تازہ فریم ورک کا مقصد نئے منصوبوں کے لیے منظوریوں، زمین، ریگولیٹری تقاضوں اور مالی ساخت سے متعلق رکاوٹوں کو پہلے مرحلے میں واضح کرنا ہے۔
سرمایہ کاری کے سرکاری اعلانات اور حقیقی سرمایہ آمد میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی منصوبے کو ترجیحی فہرست میں شامل کرنا یا دونوں حکومتوں کا تعاون پر اتفاق کرنا بذات خود حتمی سرمایہ کاری معاہدہ یا رقم کی وصولی نہیں ہوتا۔ عملی سرمایہ کاری اس وقت سامنے آتی ہے جب مخصوص منصوبے کی فزیبلٹی، سرمایہ کی مقدار، ملکیتی ڈھانچہ، معاہدے، ریگولیٹری منظوری اور مالی بندش مکمل ہوجائے۔ اس لیے مجوزہ منصوبوں کی قدر اور ٹائم لائن حتمی معاہدوں سے پہلے یقینی نہیں سمجھی جاسکتی۔
پاکستان کے لیے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری زرمبادلہ، روزگار، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کی فنانسنگ کے حوالے سے اہم ہے۔ حکومت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل سمیت مختلف اداروں کے ذریعے بڑے بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے منصوبوں کی تیاری اور منظوری کے عمل کو مربوط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تازہ پیش رفت کا اگلا اہم مرحلہ ان ترجیحی منصوبوں کو قابل بینک فزیبلٹی اور باضابطہ سرمایہ کاری معاہدوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی ان منصوبوں کے معاشی اثر، روزگار اور زرمبادلہ آمد کے بارے میں قابل پیمائش نتائج سامنے آسکیں گے۔
