لاہور: نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی نے پنجاب میں 220 کلو وولٹ گرڈ اسٹیشن اور اس سے منسلک ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کے منصوبے پر پیش رفت تیز کردی ہے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی بجلی طلب کے لیے قومی گرڈ سے مقامی تقسیم کار نیٹ ورک تک ترسیلی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور موجودہ تنصیبات پر بوجھ کم کرنا ہے۔
پاکستان کے بجلی نظام میں پیداوار کے ساتھ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی صلاحیت بھی اہم ہے۔ اگر کسی علاقے میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی گنجائش کافی ہو لیکن گرڈ اسٹیشن اور ٹرانسمیشن لائنیں مطلوبہ لوڈ منتقل نہ کرسکیں تو صارفین کو وولٹیج، اوورلوڈنگ اور فراہمی میں رکاوٹ جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ 220 کے وی سطح کے گرڈ اسٹیشن بڑے پیمانے پر بجلی کو علاقائی تقسیم کے نظام تک منتقل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
منصوبے کے تحت گرڈ اسٹیشن کے ساتھ متعلقہ ٹرانسمیشن لائنوں، حفاظتی نظام، کنٹرول آلات اور بجلی کی ترسیل کے دیگر تکنیکی اجزا کی تنصیب شامل ہوگی۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد متعلقہ علاقے میں اضافی لوڈ سنبھالنے کی صلاحیت پیدا ہونے اور موجودہ گرڈ پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔ تاہم صارفین کو حقیقی فائدہ اسی وقت مکمل طور پر منتقل ہوگا جب تقسیم کار کمپنی کا مقامی نیٹ ورک بھی نئی ترسیلی صلاحیت کے مطابق تیار ہو۔
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران بجلی کے شعبے میں گردشی قرض، بلند نرخوں اور کم استعمال کے ساتھ ٹرانسمیشن کی رکاوٹیں بھی پالیسی کا اہم موضوع رہی ہیں۔ نئے گرڈ منصوبوں کا مقصد صرف زیادہ بجلی منتقل کرنا نہیں بلکہ نظام میں فنی نقصانات، اوورلوڈنگ اور ہنگامی بندشوں کے خطرے کو کم کرنا بھی ہے۔ منصوبے کی حتمی افادیت اس کی بروقت تکمیل، تعمیراتی معیار، آلات کی دستیابی اور متعلقہ تقسیم کار کمپنی کے نیٹ ورک کے ساتھ مؤثر انضمام پر منحصر ہوگی۔ این ٹی ڈی سی کی تازہ پیش رفت اسی وسیع قومی کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے بجلی کے ترسیلی نظام کو مستقبل کی طلب اور نئے پیداواری ذرائع کے مطابق مضبوط بنایا جارہا ہے۔

