اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں غربت میں کمی کا سابقہ رجحان الٹ گیا ہے اور تازہ سرکاری تخمینوں کے مطابق مالیاتی غربت کی شرح 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کے سرکاری بیان کے مطابق یہ شرح 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی، جس سے گزشتہ چند برسوں میں غربت میں نمایاں اضافے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
احسن اقبال نے اسلام آباد میں غربت کی پیمائش اور پالیسی سازی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی عدم استحکام، ترقیاتی پالیسیوں میں تعطل، کووڈ-19، تباہ کن سیلاب اور معاشی دباؤ نے پہلے حاصل ہونے والی پیش رفت کو متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت میں پائیدار کمی کے لیے سیاسی استحکام، مسلسل معاشی نمو اور قومی ترقیاتی ترجیحات کا تسلسل ضروری ہے۔
وزارت منصوبہ بندی کے مطابق حکومت آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ قومی کثیر جہتی غربت انڈیکس کو اپ ڈیٹ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ نیشنل ایم پی آئی 2027 میں تعلیم، صحت اور معیارِ زندگی کے روایتی اشاریوں کے ساتھ موسمیاتی خطرات، عدم تحفظ، نوجوانوں کی محرومی، صنفی عدم مساوات، ڈیجیٹل اخراج، ابتدائی بچپن کی نشوونما، غذائیت، پست قدی اور نقل مکانی جیسے عوامل کی مطابقت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
حکومت قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی سطح پر کثیر جہتی غربت کے تجزیے کے امکان پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ ترقیاتی وسائل زیادہ ہدفی انداز میں مختص کیے جا سکیں۔ وزیر منصوبہ بندی نے زور دیا کہ نئے اشاریوں یا موضوعاتی مطالعات کو قابلِ اعتماد اعدادوشمار اور مضبوط طریقۂ کار پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ قومی پیمائش کی ساکھ برقرار رہے۔
عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی پاکستان پاورٹی اینڈ ایکویٹی بریف بھی اسی مجموعی رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق قومی غربت کی شرح 2018-19 کے تقریباً 22 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں تقریباً 29 فیصد ہوئی اور اضافہ تمام صوبوں کے ساتھ شہری و دیہی علاقوں میں بھی دیکھا گیا۔ یہ اعداد اس بحث کو مزید اہم بناتے ہیں کہ معاشی استحکام کے ساتھ تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی تحفظ میں سرمایہ کاری کو کس طرح بڑھایا جائے۔
احسن اقبال نے وفاقی ترقیاتی اخراجات کے محدود ہونے کو بھی انسانی ترقی کے لیے ایک رکاوٹ قرار دیا۔ ان کے مطابق ترقیاتی سرمایہ کاری میں کمی کے اثرات تعلیم، صحت، پانی، بنیادی ڈھانچے، ہنرمندی اور معاشی مواقع پر پڑتے ہیں، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں محرومی پہلے ہی زیادہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تازہ غربت شواہد کو مستقبل کی منصوبہ بندی، وسائل کی تقسیم اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو بہتر ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
