اسلام آباد: کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری سے متعلق مجوزہ لین دین کو مسابقتی قوانین کے تحت جائزہ مکمل کرنے کے بعد منظوری دے دی ہے۔ یہ کلیئرنس نجکاری کے وسیع عمل میں ایک ریگولیٹری مرحلہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کمیشن نے زیر غور لین دین کو متعلقہ مارکیٹ میں مسابقت کے نقطۂ نظر سے قابل قبول قرار دیا ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری کئی برسوں سے حکومت کے سرکاری اداروں میں اصلاحات کے ایجنڈے کا اہم حصہ رہی ہے۔ قومی ایئرلائن کو مالی نقصانات، قرضوں، آپریشنل اخراجات اور انتظامی مسائل کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث حکومت نے اس کے کاروباری ڈھانچے کو نجی سرمایہ کار کے حوالے کرنے کے لیے مختلف مراحل میں مالی تنظیم نو اور بولی کے عمل پر کام کیا۔ مسابقتی کمیشن کی منظوری کسی نجکاری معاہدے کی مالی یا آپریشنل کامیابی کی ضمانت نہیں بلکہ صرف مسابقتی قانون کے تحت مخصوص لین دین کا جائزہ ہے۔
کمیشن عموماً انضمام یا حصص کے بڑے حصول کے معاملات میں یہ دیکھتا ہے کہ مجوزہ خریدار کے آنے سے متعلقہ مارکیٹ میں مقابلہ غیر معمولی طور پر محدود تو نہیں ہوگا، کسی ایک ادارے کو نقصان دہ حد تک مارکیٹ طاقت تو حاصل نہیں ہوگی اور صارفین یا حریفوں کے لیے داخلے کی رکاوٹیں تو نہیں بڑھیں گی۔ ایوی ایشن میں یہ جائزہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ روٹس، ہوائی اڈوں کے سلاٹس، فلیٹ، مسافر خدمات اور کارگو آپریشنز مارکیٹ مقابلے پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
نجکاری کے اگلے مراحل میں حکومت اور نجکاری سے متعلق اداروں کو بولی، مالی شرائط، حصص کی منتقلی، ملازمین، قرضوں اور دیگر معاہداتی ذمہ داریوں سے متعلق تقاضے مکمل کرنا ہوں گے۔ پی آئی اے کی ملکیت میں تبدیلی اس وقت ہی مکمل تصور ہوگی جب تمام ضروری سرکاری، مالی اور معاہداتی مراحل پورے ہوجائیں۔ کمپیٹیشن کمیشن کی تازہ کلیئرنس اس عمل کی ایک رکاوٹ دور کرتی ہے، لیکن حتمی فروخت اور اس کے بعد ایئرلائن کی کاروباری کارکردگی الگ معاملات ہیں جن کا نتیجہ مستقبل کی پیش رفت سے واضح ہوگا۔

