کراچی: سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنی پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے کہا ہے کہ وہ اپنے واجب الادا گردشی قرض کے تصفیے کے لیے وفاقی حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ کمپنی کی انتظامیہ نے سالانہ جنرل اجلاس میں بتایا کہ فروری 2024 کے بعد اس کے قابل وصول واجبات میں مزید اضافہ نہیں ہوا اور حالیہ مہینوں میں مختلف سرکاری اداروں سے اہم رقوم وصول ہوئی ہیں۔
پی ایس او کے مطابق مالی سال ختم ہونے کے بعد پاور ڈویژن سے تقریباً 10 ارب روپے کی گردشی قرض ادائیگیاں موصول ہوئیں، جبکہ آخری سہ ماہی میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ سے 26 ارب روپے وصول کیے گئے۔ یوں ان دو ذرائع سے مجموعی وصولی تقریباً 36 ارب روپے بنتی ہے۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ پیٹرولیم مارکیٹ میں اس کا حصہ دوبارہ 40 فیصد سے اوپر چلا گیا ہے اور زیادہ تر اضافہ جولائی 2026 کے بعد ریکارڈ ہوا۔ انتظامیہ نے اس بہتری کو مصنوعات کی دستیابی، قیمتوں کے نظم اور سپلائی چین کی کارکردگی سے جوڑا۔
کمپنی کے مطابق بلند ایندھن قیمتیں، سرکاری کفایت شعاری، برقی گاڑیوں اور شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال کے باعث مجموعی پیٹرولیم طلب پر دباؤ رہ سکتا ہے۔ پی ایس او منتخب ریٹیل آؤٹ لیٹس اور کراچی حیدرآباد، راولپنڈی پشاور سمیت بڑی شاہراہوں پر الیکٹرک وہیکل چارجنگ سہولیات نصب کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے۔ کمپنی مارچ 2027 تک ریٹیل آٹومیشن کی بعض ضروریات مکمل کرنا چاہتی ہے۔
ایل این جی کاروبار کے بارے میں انتظامیہ نے کہا کہ قطر انرجی کے ساتھ حکومتی سطح کا سپلائی انتظام فنانسنگ اخراجات سے پہلے منافع بخش ہے، لیکن مالی اخراجات شامل کرنے کے بعد نقصان میں چلا جاتا ہے۔ کمپنی نے اس دباؤ کو بلند مؤثر ٹیکس شرح اور ایل این جی ٹرن اوور پر کم از کم ٹیکس سمیت متعدد عوامل سے جوڑا۔ پی ایس او نے پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے ساتھ ممکنہ سرمایہ کاری کے عزم کا بھی اعادہ کیا اور بتایا کہ پی ایس او، آذربائیجان کی سوکار اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے مجوزہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے پر تجارتی اور ٹیرف مذاکرات آخری مراحل میں ہیں۔ گردشی قرض کے تصفیے کے مجوزہ منصوبے کی حتمی ساخت اور مالی اثرات حکومت، متعلقہ اداروں اور آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مشاورت مکمل ہونے کے بعد واضح ہوں گے۔

