وزیر اقتصادی امور احد چیمہ نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ سے اسلام آباد میں ملاقات میں پاکستان کی مالی اصلاحات اور ترقیاتی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیر نے آئی ایم ایف، اے ڈی بی اور عالمی بینک سمیت ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ جاری اصلاحاتی عمل کو معاشی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔

اے ڈی بی کے نائب صدر نے بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ بہتری کا خیرمقدم کیا اور میکرو اکنامک استحکام مضبوط کرنے کی حکومتی کوششوں کو سراہا۔ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کسی ملک کے بیرونی قرض کی لاگت اور سرمایہ کاروں کے رسک جائزے پر اثر انداز ہو سکتی ہے، تاہم یہ واحد فیصلہ کن عامل نہیں ہوتی۔

پاکستان اور اے ڈی بی کا تعلق چھ دہائیوں سے زیادہ پر محیط ہے اور بینک توانائی، ٹرانسپورٹ، شہری خدمات، سماجی تحفظ، تعلیم اور موسمیاتی لچک سمیت متعدد شعبوں میں مالی معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔ موجودہ دورے میں پاکستان نے بڑے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے لیے بھی اے ڈی بی کی زیادہ شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔

مالی اصلاحات میں محصولات بڑھانا، سرکاری اخراجات کی کارکردگی، سرکاری اداروں کی اصلاح، قرض کا انتظام اور صوبائی و وفاقی مالی ہم آہنگی جیسے معاملات شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد بجٹ خسارہ اور قرض کے دباؤ کو قابل انتظام رکھنا ہے، لیکن ان کے سماجی اور معاشی اثرات کا بھی جائزہ ضروری ہے۔

ملاقات میں کوئی نیا قرض یا مخصوص مالی پیکیج حتمی طور پر منظور نہیں کیا گیا۔ یہ اعلیٰ سطحی پالیسی مشاورت تھی جس میں موجودہ اصلاحات اور مستقبل کی ترقیاتی ترجیحات پر تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستان کے لیے اے ڈی بی کی طویل مدتی شراکت داری اس وقت خاص اہمیت رکھتی ہے جب حکومت بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے ساتھ مالی پائیداری اور نجی سرمایہ کاری کو بیک وقت آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔