اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے پاکستان میں 12 سے 15 نئے صوبے قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے ملک کے انتظامی ڈھانچے پر قومی اور سیاسی بحث شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف قانون کے وزیر کے ذریعے انتظامی اصلاحات کی ایک کمیٹی تشکیل دیں جو مختلف تجاویز، ان کے عملی تقاضوں اور ممکنہ حدود کا جائزہ لے۔
احسن اقبال نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ چاروں صوبوں میں وقت کے ساتھ انتظامی مرکزیت بڑھی ہے اور اس صورت حال نے صحت اور تعلیم جیسی بنیادی خدمات کی فراہمی کو متاثر کیا ہے۔ ان کے تجویز کردہ ایک ممکنہ خاکے کے مطابق ہر موجودہ صوبے کو تین انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ نئی اکائیوں کا قیام کسی ایسے منصفانہ فارمولے کے تحت ہونا چاہیے جس سے سینیٹ میں نمائندگی کا توازن غیر معمولی طور پر کسی ایک سمت نہ جھکے۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ صوبوں کے قیام کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے ضروری ہوگا۔ انہوں نے تجویز کو حتمی منصوبہ یا نافذ شدہ حکومتی پالیسی قرار نہیں دیا بلکہ انتظامی اصلاحات پر بحث کے آغاز سے جوڑا۔ ان کے مطابق وہ وزیراعظم کی بیرون ملک مصروفیات سے واپسی کے بعد معاملہ ان کے سامنے اٹھانا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم کے رابطہ کار رانا احسان افضل خان نے بتایا کہ وفاقی سطح پر نئے صوبوں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کوئی باضابطہ کمیٹی قائم ہوئی ہے۔ ان کا یہ بیان اس فرق کو نمایاں کرتا ہے کہ ایک وفاقی وزیر کی تجویز اور حکومت کی منظور شدہ پالیسی ایک ہی چیز نہیں۔ لہٰذا فی الحال ملک کے نقشے یا صوبائی حدود میں کسی فوری تبدیلی کا اعلان نہیں ہوا۔
نئے صوبوں کی بحث کے ساتھ مالی وسائل، پانی اور قدرتی ذخائر کی تقسیم، وفاقی محصولات میں حصے، سینیٹ کی نمائندگی اور نئی صوبائی حکومتوں کے انتظامی اخراجات جیسے سوالات بھی وابستہ ہیں۔ سندھ میں صوبے کی تقسیم کی مخالفت پہلے ہی سیاسی ردعمل پیدا کر چکی ہے، جبکہ جنوبی پنجاب اور ہزارہ جیسے نئے صوبوں کے مطالبات ماضی میں مختلف ادوار میں سامنے آتے رہے ہیں۔
احسن اقبال کی تازہ تجویز نے اس پرانی بحث کو دوبارہ قومی سطح پر نمایاں کیا ہے، مگر اس کا اگلا مرحلہ وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی کے قیام، سیاسی جماعتوں سے مشاورت اور کسی باضابطہ آئینی یا انتظامی خاکے کی تیاری پر منحصر ہوگا۔ ابھی تک دستیاب معلومات کے مطابق ان میں سے کوئی مرحلہ مکمل نہیں ہوا۔




