اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھیجے گئے ایک تفصیلی مراسلے میں پاکستان کی موجودہ معاشی استحکام کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 11 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق وزیر منصوبہ بندی نے مؤقف اختیار کیا کہ ترقیاتی اخراجات محدود کرکے اور قرضوں پر زیادہ انحصار کرکے حاصل ہونے والا مالیاتی استحکام طویل مدت میں معیشت کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرسکتا ہے۔ انہوں نے زیادہ نمو کے لیے آٹھ نکاتی متبادل مالیاتی فریم ورک کی سفارش کی۔
رپورٹ کے مطابق احسن اقبال نے یہ مراسلہ گزشتہ ماہ وزیراعظم کو بھیجا تھا۔ ان کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ بجٹ خسارہ اور دوسرے مالیاتی اشاریے بہتر دکھائی دینا کافی نہیں، اگر اس کے ساتھ سرمایہ کاری، برآمدات، روزگار اور حقیقی آمدن میں پائیدار اضافہ نہ ہو۔ انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط کی ضرورت سے انکار نہیں کیا، تاہم کہا کہ اخراجات میں کٹوتی کا معیار اور اس کے اثرات بھی اہم ہیں۔
مراسلے میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے سکڑتے حجم پر خصوصی توجہ دی گئی۔ رپورٹ میں درج اعدادوشمار کے مطابق 2018 میں وفاقی ترقیاتی اخراجات مجموعی ملکی پیداوار کے تقریباً 2.6 فیصد کے برابر تھے، جبکہ رواں مالی سال میں یہ تناسب 0.8 فیصد بتایا گیا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی کے مطابق اگر بنیادی ڈھانچے، تعلیم، ٹیکنالوجی اور پانی کے تحفظ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری مسلسل محدود رہی تو مستقبل کی معاشی نمو کے امکانات کمزور ہوسکتے ہیں۔
احسن اقبال نے 2029 تک معیشت کی متوقع سمت واضح کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کی تجویز کے مطابق وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی کو مل کر موجودہ پالیسیوں کے تحت متوقع شرح نمو، مطلوبہ شرح نمو اور دونوں کے درمیان فرق دور کرنے کے اقدامات کا تعین کرنا چاہیے۔ انہوں نے وزیراعظم کی سطح پر ایک ایسا فورم قائم کرنے کی تجویز بھی دی جہاں مالی سال 2028-29 تک کے معاشی امکانات کا قابل اعتماد جائزہ پیش کیا جائے۔
رپورٹ میں گزشتہ مالی سال کی شرح نمو 3.7 فیصد، بے روزگاری 7.1 فیصد اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 1.6 ارب ڈالر بتائی گئی۔ یہ اعدادوشمار اس بحث کے پس منظر کے طور پر پیش کیے گئے ہیں کہ مالیاتی اہداف کے ساتھ معاشی سرگرمی اور ملازمتوں میں اضافہ کیسے یقینی بنایا جائے۔ وزیر منصوبہ بندی نے ٹیکس وصولیوں کا دائرہ وسیع کرنے اور کم ٹیکس دینے والے شعبوں سے مؤثر وصولی کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزارت خزانہ سے اس تنقید پر جواب طلب کیا گیا لیکن اشاعت تک جواب موصول نہیں ہوا۔ اس لیے مراسلے کو حکومت کی متفقہ یا منظور شدہ نئی پالیسی سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ یہ ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پیش کردہ سفارشات اور خدشات ہیں۔ آئندہ اہم سوال یہ ہوگا کہ آیا ان تجاویز کو بجٹ، ترقیاتی ترجیحات اور آئی ایم ایف سے معاشی مذاکرات میں کوئی عملی شکل دی جاتی ہے یا نہیں۔
