اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں صوبائی محصولات میں اضافے، مالیاتی انتظام بہتر بنانے اور صحت و تعلیم جیسی عوامی خدمات کی کارکردگی بڑھانے کے لیے چھ سالہ اصلاحاتی پروگرام کی تیاری سامنے آئی ہے۔ ڈان کے مطابق عالمی بینک سے توقع ہے کہ وہ اکتوبر 2026 کے آخر میں بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کے ذریعے 20 کروڑ ڈالر کے قرض کی منظوری دے گا۔ یہ متوقع منظوری ہے، اس لیے اسے پہلے سے منظورشدہ یا جاری کردہ قرض قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مجوزہ پروگرام کا نام پبلک ریسورسز فار انکلوسیو ڈیولپمنٹ، یعنی پی آر آئی ڈی، ہے۔ اس کے لیے مالی سال 2027 سے 2032 تک مجموعی مالی وسائل کا تخمینہ 65 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، جس میں عالمی بینک کے ممکنہ 20 کروڑ ڈالر کے علاوہ باقی حصہ صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔ منصوبے میں ٹیکس انتظامیہ، بجٹ سازی، اخراجات کی نگرانی اور خدمات کی فراہمی کو باہم مربوط کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
پروگرام کی دستاویز کے مطابق صوبے کے تقریباً چار کروڑ دس لاکھ باشندوں کو بہتر وسائل اور عوامی خدمات کے ذریعے بالواسطہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ دیہی صحت مراکز کی خدمات میں بہتری سے اندازاً 13 لاکھ افراد اور سرکاری پرائمری اسکولوں میں زیر تعلیم تقریباً 37 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچانے کا ہدف بیان کیا گیا ہے۔ ان بچوں میں تقریباً 21 لاکھ لڑکے اور 16 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔ یہ متوقع فوائد ہیں، جن کی حقیقی صورت پروگرام کے نفاذ اور نتائج سے معلوم ہوگی۔
صوبے میں سات لاکھ سے زیادہ جائیداد مالکان، تقریباً دس ہزار زرعی آمدن ٹیکس دہندگان اور دس لاکھ سے زیادہ گاڑی مالکان کو زیادہ شفاف اور سہولت پر مبنی ٹیکس انتظامیہ سے فائدہ پہنچانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ دستاویز میں ضم شدہ اضلاع اور سابق پاٹا علاقوں کی ٹیکس چھوٹ کے باعث متعلقہ ٹیکس اقدامات کو پروگرام کے مخصوص نتائج پر مبنی مالیاتی دائرے سے باہر رکھا گیا ہے، جبکہ تکنیکی معاونت کے لیے الگ مالی حصہ تجویز کیا گیا ہے۔
ڈان کے مطابق خیبر پختونخوا کی مالیاتی مشکلات میں وفاقی منتقلیوں پر انحصار، تنخواہوں اور پنشن کے بڑھتے اخراجات اور محدود مقامی محصولات شامل ہیں۔ صوبے میں ٹیکس ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور معلومات کے تبادلے کی بعض کوششیں پہلے ہی کی گئی ہیں، لیکن مختلف محکموں میں بکھرا انتظام اور محدود تکنیکی صلاحیت رکاوٹیں ہیں۔ پروگرام کی کامیابی کا دارومدار مالی وسائل کی منظوری کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف نفاذ اور عوامی خدمات کے قابل پیمائش نتائج پر ہوگا۔
