اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت مستحق طبقات کو ایندھن کی قیمت میں ہدفی رعایت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہے۔ 11 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو 2026 کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں اس اسکیم کے حق میں مؤقف پیش کیا۔ ان کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کی فیول سپورٹ اسکیم کی لاگت اور مستفید ہونے والوں کے وسیع دائرے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ سے جب آئی ایم ایف کے اعتراض کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس مؤقف سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ صحافیوں نے توجہ دلائی کہ فنڈ نے اپنا مؤقف باضابطہ بیان میں پیش کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ ممکن ہے متعلقہ ادارے نے اس بارے میں کسی اور سطح پر بات کی ہو، تاہم انہیں اس کی اطلاع نہیں ملی۔ اس گفتگو کو آئی ایم ایف کی سفارش سے اتفاق یا اس کی باضابطہ تردید کے طور پر نہیں پڑھنا چاہیے۔

آئی ایم ایف نے 7 اکتوبر کو پاکستان کے ساتھ قرض پروگرام کے جائزوں پر اسٹاف لیول معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ ایندھن امدادی اسکیم کو اس کی بلند لاگت اور وسیع ہدف بندی کے باعث جلد ختم کیا جانا چاہیے۔ فنڈ کے مطابق مستقبل میں عالمی تیل کی قیمتیں غیر متوقع طور پر بڑھنے کی صورت میں امداد محدود مدت کے لیے، واضح طور پر مستحق افراد کو اور پہلے سے قائم سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے دی جانی چاہیے۔ ایسی امداد مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی حدود میں بھی رہنی چاہیے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی موجودہ اسکیم سے تقریباً ایک کروڑ دو لاکھ افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ ان کے مطابق مستفید ہونے والوں میں موٹر سائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین شامل ہیں۔ انہوں نے ایک گھرانے میں اوسطاً پانچ افراد کی بنیاد پر یہ اندازہ بھی پیش کیا کہ بالواسطہ فائدہ پانے والوں کی تعداد پانچ کروڑ تک ہوسکتی ہے۔ یہ حکومتی اندازہ ہے، براہ راست رجسٹرڈ مستفید ہونے والوں کی تعداد نہیں۔

وزیر خزانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مخصوص طبقات کو رعایت دینے سے ایندھن کے مہنگا ہونے کے باوجود ضرورت مند افراد کو مدد مل رہی ہے۔ دوسری طرف آئی ایم ایف کا زور اس بات پر ہے کہ مالیاتی وسائل محدود ہونے کی صورت میں امدادی اسکیموں کی لاگت اور ہدف بندی واضح رہے۔ یہ دونوں مؤقف حکومتی سماجی ریلیف اور بجٹ نظم و ضبط کے درمیان موجود پالیسی اختلاف کی نشاندہی کرتے ہیں۔

آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ قرض کی اگلی رقم کی فوری ادائیگی کے برابر نہیں؛ اس کے لیے فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری درکار ہے۔ اسی طرح وزیر خزانہ کے بیان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ فیول سپورٹ اسکیم کی تمام آئندہ شرائط طے ہوچکی ہیں۔ اس معاملے میں اگلا قابل تصدیق مرحلہ حکومت کی باضابطہ پالیسی، بجٹ فیصلوں اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اقدامات کی تفصیل ہوگا۔