کراچی: پاکستان میں تعمیراتی شعبے کو مہنگے خام مال اور بڑھتی قیمتوں کا سامنا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ہفتہ وار حساس قیمت اشاریے کے مطابق 8 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سیمنٹ کی 50 کلوگرام بوری کی اوسط قیمت 1596 روپے ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ سال 9 اکتوبر کو ختم ہونے والے تقابلی ہفتے میں یہی اوسط قیمت 1395 روپے تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران 201 روپے، یعنی تقریباً 14.38 فیصد، اضافہ ہوا۔
یہ اعدادوشمار قومی اوسط ظاہر کرتے ہیں، اس لیے ہر شہر اور ہر دکان پر فروخت ہونے والی بوری کی قیمت یکساں ہونا ضروری نہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مارکیٹ ذرائع نے بتایا کہ پنجاب کے بعض علاقوں میں سیمنٹ کی قیمتیں کراچی کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ مقامی طلب، نقل و حمل، پیداواری اخراجات اور فروخت کے طریقہ کار کے باعث مختلف منڈیوں میں فرق پیدا ہوسکتا ہے۔
مالیاتی تحقیقاتی ادارے ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں سیمنٹ کی قیمتیں گزشتہ سال کی اسی مدت سے تقریباً 100 سے 150 روپے فی بوری زیادہ رہیں۔ اس تجزیے میں بین الاقوامی کوئلے اور ڈیزل کی بلند قیمتوں کو اہم عوامل میں شمار کیا گیا۔ ادارے سے وابستہ تجزیہ کار کے مطابق جنوبی افریقا کے رچرڈز بے کوئلے کی اوسط قیمت رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تقریباً 113.93 ڈالر فی ٹن رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ 90.30 ڈالر تھی۔
رپورٹ میں نقل کیے گئے مارکیٹ اندازوں کے مطابق کوئلے کی لاگت میں سالانہ تقریباً 20 ڈالر فی ٹن اضافے سے سیمنٹ کی ایک بوری پر کم از کم 20 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے مزید تقریباً 15 روپے لاگت بڑھی۔ یہ صنعت سے وابستہ ذرائع کے تخمینے ہیں، انہیں ہر کمپنی کی تصدیق شدہ لاگت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ بعض ذرائع نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ فروخت کی قیمت میں اضافہ پیداواری اخراجات میں اضافے سے زیادہ رہا، تاہم یہ ایک تجزیاتی رائے ہے۔
سیمنٹ رہائشی تعمیرات، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی منصوبوں کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کی قیمت میں مسلسل اضافہ نئے مکان بنانے یا مرمت کرانے والے خاندانوں کے بجٹ کو متاثر کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مقامی سیمنٹ ترسیلات سالانہ بنیاد پر آٹھ فیصد بڑھیں جبکہ برآمدی ترسیلات میں گیارہ فیصد کمی آئی۔ قیمتوں اور ترسیلات کی یہ صورت حال تعمیراتی سرگرمیوں اور صنعت کے منافع دونوں کے جائزے میں اہم ہوگی۔
