اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان کے انتظامی نظام میں بنیادی تبدیلی کی بحث چھیڑتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو یا تو 15 مزید صوبے بنانے چاہییں یا 160 مکمل طور پر بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کرنی چاہییں۔ انہوں نے یہ تجویز یکم ستمبر 2026 کو اسلام آباد کی حکمرانی میں اصلاحات سے متعلق میڈیا نمائندوں کے مشاورتی اجلاس میں پیش کی۔
احسن اقبال کے مطابق وفاق اور صوبوں پر مشتمل موجودہ دو سطحی نظام عوامی خدمات اور سماجی اشاریوں میں مطلوبہ بہتری نہیں لا سکا۔ انہوں نے دلیل دی کہ جمہوری نمائندگی صرف قومی و صوبائی سطح تک محدود رہنے سے شہریوں کے روزمرہ مسائل حکومتی فیصلوں سے دور ہو جاتے ہیں، اس لیے مقامی حکومت کو حقیقی انتظامی، مالی اور سیاسی اختیار دینا ضروری ہے۔
وزیر نے کہا کہ تقریباً 26 کروڑ آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے صرف 1,170 منتخب عوامی عہدے ناکافی ہیں اور فعال مقامی نظام کے ذریعے ڈیڑھ سے دو لاکھ تک عوامی نمائندگی کے منصب پیدا ہونے چاہییں۔ یہ اعداد اور ان سے اخذ کردہ حکمرانی کا نتیجہ ان کا پالیسی مؤقف ہے؛ کسی منظور شدہ سرکاری منصوبے میں اتنے نئے عہدے قائم نہیں کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2010 میں وفاق نے 18ویں آئینی ترمیم کے بعد 17 موضوعات صوبوں کو منتقل کیے، مگر صوبوں نے مقامی حکومتوں کو اسی نوعیت کا اختیار نہیں دیا۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 140-اے میں مقامی حکومت کے تیسرے درجے کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی انتظامی، مالی اور سیاسی خود مختاری کے طریقۂ کار کو مزید واضح کرنے کی ضرورت بیان کی۔
احسن اقبال نے 15 مزید صوبوں اور 160 ضلعی حکومتوں کو دو متبادل راستوں کے طور پر پیش کیا، ایک ساتھ منظور شدہ مشترکہ منصوبہ نہیں۔ بعض بعد کی رپورٹس میں چار موجودہ صوبوں کو مجموعی طور پر 12 سے 15 چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کرنے کا تصور بھی بیان ہوا، جس سے تعداد کی تعبیر مختلف نظر آتی ہے۔ حتمی تعداد، حدود، نام، وسائل یا دارالحکومتوں کا کوئی سرکاری نقشہ جاری نہیں ہوا۔
وفاقی وزیر نے ملک گیر انتظامی اصلاحات پر ایک کمیٹی بنانے اور سیاسی و قومی سطح پر مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم کے رابطہ کار رانا احسان افضل خان نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے لیے وفاقی سطح پر ابھی کوئی باضابطہ کمیٹی یا حتمی فیصلہ موجود نہیں۔ اس لیے وزیر کی گفتگو کو کابینہ، پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں کی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ ملک گیر تجویز اسلام آباد کی انتظامی اصلاحات کے الگ مسودے کے ساتھ سامنے آئی۔ احسن اقبال کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت اور ایک منتخب اسمبلی کا تصور پیش کیا ہے۔ مجوزہ اسمبلی میں 21 براہِ راست منتخب ارکان، خواتین کی پانچ مخصوص نشستیں اور ایک اقلیتی نشست شامل ہو سکتی ہے، جبکہ امن و امان اور شہر کی ماسٹر پلاننگ وفاق کے پاس رکھنے کی تجویز ہے۔ یہ مسودہ بھی وزیراعظم کی منظوری کا منتظر ہے۔
اسلام آباد کے لیے مجوزہ سربراہ کو وزیراعلیٰ یا میئر کہنے کا فیصلہ بھی ابھی نہیں ہوا۔ کمیٹی نے صحت، تعلیم، بجٹ، قانون سازی، ادارہ جاتی صلاحیت اور منتقلی کے عملی منصوبے کا جائزہ لینے کا مینڈیٹ حاصل کیا تھا۔ پمز آتش زدگی کے بعد بکھری ہوئی شہری ذمہ داریوں کو احسن اقبال نے اصلاحات کی فوری ضرورت کی ایک مثال قرار دیا۔
نئے صوبوں کی تشکیل آئینی، سیاسی اور مالی عمل مانگتی ہے۔ متعلقہ صوبائی حدود، سینیٹ میں نمائندگی، قومی مالیاتی ایوارڈ، پانی اور قدرتی وسائل کی تقسیم، نئی اسمبلیوں اور انتظامی ڈھانچے کے اخراجات پر وسیع اتفاق رائے درکار ہوگا۔ سندھ سمیت مختلف علاقوں میں تقسیم کی تجاویز کی مخالفت بھی سامنے آ چکی ہے، جبکہ حامی چھوٹی اکائیوں کو بہتر خدمات سے جوڑتے ہیں۔ دونوں مؤقف ابھی سیاسی مباحثے کا حصہ ہیں۔
تصدیق شدہ نئی پیش رفت احسن اقبال کی طرف سے دو متبادل ماڈل پیش کرنا اور قومی بحث کا مطالبہ ہے۔ 15 مزید صوبے قائم نہیں ہوئے، 160 ضلعی حکومتیں تشکیل نہیں پائیں اور نہ ہی ان کے لیے کوئی حتمی آئینی مسودہ منظور ہوا ہے۔ اگلا قابلِ تصدیق مرحلہ باضابطہ کمیٹی، کابینہ فیصلہ، پارلیمانی مسودہ یا صوبائی مشاورت کی صورت میں سامنے آئے گا۔




