وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے پاکستان کی برآمدات میں توسیع اور تنوع کے لیے اسٹریٹجک روڈ میپ، مقامی سطح پر پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں اور گلگت بلتستان میں پائیدار سیاحت کے انتظامی فریم ورک کی تیاری میں فنی معاونت طلب کی ہے۔ یہ درخواست تین ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں اے ڈی بی کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ کے ساتھ ملاقات میں پیش کی گئی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق احسن اقبال نے مؤقف اختیار کیا کہ قرض پر قائم معاشی استحکام دیرپا حل نہیں اور پائیدار نمو کے لیے برآمدات بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے اے ڈی بی سے کہا کہ وہ برآمدی مصنوعات اور منڈیوں میں تنوع، تجارتی صلاحیت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لیے عالمی تجربات اور فنی مہارت فراہم کرے۔ وزیر نے اس ضمن میں ماضی کے ویژن 2010 کے دور میں بینک کی تکنیکی معاونت کا حوالہ بھی دیا۔

حکومت نے 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کی خواہش دہرائی، تاہم ملاقات میں اس ہدف کے لیے کوئی نیا قرض، گرانٹ، سرمایہ کاری رقم یا باقاعدہ منظوری جاری نہیں کی گئی۔ سرکاری بیان میں برآمدات کو صنعت، غذائی تحفظ، تجارت، خارجہ تعلقات اور اقتصادی سفارت کاری سے جوڑتے ہوئے ساختی رکاوٹیں دور کرنے کی ضرورت بیان کی گئی۔ یہ اہداف اور معاشی پیش رفت کا جائزہ حکومت کا پالیسی مؤقف ہے؛ ان کے نتائج کا تعین مستقبل کے سرکاری اعداد اور عملی اقدامات سے ہوگا۔

پانی اور موسمیاتی موافقت کے موضوع پر احسن اقبال نے چھوٹے ڈیم، آبی ذخائر اور بارش کا پانی روکنے والے تالاب تعمیر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے علاقوں میں، جہاں بڑی مقدار میں بارشی پانی بہہ کر ضائع ہوجاتا ہے، مقامی ذخیرہ شہری آبادیوں کے تحفظ، زرعی استعمال اور پانی کی دستیابی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے اچانک سرحد پار آبی بہاؤ کو بھی منصوبہ بندی کا چیلنج قرار دیا۔

یہ تجویز بڑے ڈیم کے کسی مخصوص متبادل یا منظور شدہ تعمیراتی منصوبے کا اعلان نہیں۔ اعلامیے میں مجوزہ مقامات، تعداد، لاگت، ماحولیاتی جائزے، فنڈنگ یا تکمیل کی مدت نہیں بتائی گئی۔ اس مرحلے پر پاکستان نے اے ڈی بی سے مقامی آبی انتظام کے قابلِ عمل ماڈل اور عالمی بہترین طریقوں میں تعاون مانگا ہے، جبکہ عملی تعمیر کے لیے مزید فزیبلٹی، مالی منظوری اور متعلقہ صوبائی اداروں کی شمولیت درکار ہوگی۔

گلگت بلتستان میں سیاحوں کی بڑھتی آمد کے تناظر میں وزیر منصوبہ بندی نے اے ڈی بی سے پائیدار سیاحت کا انتظامی فریم ورک بنانے میں مدد کی درخواست کی۔ مقصد سرکاری بیان کے مطابق علاقے کے نازک ماحولیاتی نظام کو سیاحتی دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے۔ کسی نئے داخلہ محصول، سیاحوں کی حد، زوننگ ضابطے یا انفراسٹرکچر منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا؛ مجوزہ معاونت ابھی فنی فریم ورک کی سطح پر ہے۔

ملاقات کے دوران اے ڈی بی کے نائب صدر نے احسن اقبال کو 29 اور 30 ستمبر 2026 کو منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں ہونے والی پچیسویں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون، یعنی کیریک، وزارتی کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی دعوت دی، جسے وزیر نے قبول کیا۔ بینک کے نمائندے نے ادارہ سازی، موسمیاتی لچک اور طویل مدتی ترقی میں حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا مؤقف دہرایا۔

ملاقات کا فوری نتیجہ کسی مالی معاہدے کے بجائے فنی تعاون کی ترجیحات متعین کرنا تھا۔ آگے چل کر اس پیش رفت کی جانچ برآمدی روڈ میپ کی تیاری، آبی منصوبوں کی فزیبلٹی، گلگت بلتستان کے سیاحتی انتظامی قواعد اور اے ڈی بی کی باضابطہ منظوریوں سے ہوگی۔