اسلام آباد: وفاقی حکومت نے زرعی شعبے کے سرکاری، نجی، تعلیمی اور تحقیقی فریقوں کو ایک مشترکہ مشاورتی عمل میں جمع کرکے پاکستان کی زرعی برآمدات کو خام اجناس سے زیادہ قدر والی، پراسیس شدہ، سرٹیفائیڈ اور برانڈڈ مصنوعات کی طرف منتقل کرنے کے لیے عملی روڈ میپ کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یہ پیش رفت 4 ستمبر کو وزارتِ منصوبہ بندی کے زیرِ اہتمام ”پاکستان کی ہائی ویلیو برآمدی صلاحیت کھولنے“ سے متعلق تزویراتی مکالمہ سیریز کے تیسرے اجلاس میں سامنے آئی۔
وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس کی صدارت کی، جبکہ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان بھی شریک ہوئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق گول میز اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں، زرعی اور انجینئرنگ جامعات، چیمبرز آف کامرس، تجارتی انجمنوں، سرٹیفکیشن ایجنسیوں، برآمد کنندگان اور گوشت، پولٹری، ڈیری، چاول، کھجور، باغبانی، زیتون اور نامیاتی مصنوعات سے وابستہ کاشت کاروں سمیت تقریباً 100 نمائندوں نے حصہ لیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ مشاورت کا مقصد روایتی اجلاسوں سے آگے بڑھ کر حکومت، صنعت، جامعات اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان ایسا عملی اشتراک قائم کرنا ہے جو ہر شعبے کی مخصوص رکاوٹوں کو حل کر سکے۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی، موسمی دباؤ برداشت کرنے والے بیج، کوآپریٹو ماڈلز اور نجی شعبے کی قیادت کے ذریعے زراعت کو زیادہ پیداواری اور برآمدی بنانے پر زور دیا۔ یہ حکومتی پالیسی سمت ہے؛ اجلاس میں کسی جامع قانونی پیکیج، بجٹ یا حتمی نفاذی شیڈول کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
رانا احسان افضل کے مطابق زرعی مصنوعات پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 22 فیصد ہیں، مگر ان کا بڑا حصہ خام اجناس پر مشتمل ہونے کی وجہ سے عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور بیرونی جھٹکوں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 60 ارب ڈالر کے قومی برآمدی ہدف اور 2035 تک 100 ارب ڈالر سے زیادہ برآمدات کی طویل مدتی خواہش کے لیے پراسیسنگ، معیار، عالمی سرٹیفکیشن، جدید پیکیجنگ، کولڈ چین، برانڈنگ اور نئی منڈیوں تک رسائی ضروری ہے۔ یہ اہداف حکومتی عزائم ہیں، یقینی نتائج نہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے برآمدی مالیاتی پول کو 2026 سے 2028 کے دوران ایک کھرب روپے سے بڑھا کر دو کھرب روپے کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جبکہ چھوٹے اور متوسط کاروباروں کے لیے وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر الگ مالیاتی سہولت تیار کی جا رہی ہے۔ اضافی کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں کو قومی ٹیرف پالیسی کے دوسرے سال میں مرحلہ وار کم کرنے اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی کو زرعی برآمد کنندگان کے لیے مخصوص پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کے منصوبے بھی بیان کیے گئے۔ ان اقدامات کی حتمی حیثیت متعلقہ منظوریوں اور نوٹیفکیشن سے طے ہوگی۔
سرکاری اعداد کے حوالے سے بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 میں خوراک کی برآمدات 5.02 ارب ڈالر رہیں، جبکہ خوراک کا درآمدی بل 9.15 ارب ڈالر تھا۔ جولائی 2026 میں خوراک کی برآمدات سالانہ بنیاد پر 2.5 فیصد، چاول کی برآمدات 19 فیصد اور گوشت کی برآمدات 16 فیصد بڑھنے کی اطلاع دی گئی۔ اجلاس نے حلال گوشت و پولٹری، اعلیٰ معیار کی باغبانی، برانڈڈ باسمتی چاول، پراسیس شدہ خوراک، کھجور اور خوردنی تیل کو زیادہ برآمدی صلاحیت رکھنے والے شعبوں میں شامل کیا۔ حکومت نے 2028 تک حلال گوشت کی برآمدات 70 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی بیان کیا۔
صنعتی اور علمی نمائندوں نے پراسیس شدہ اور پیک شدہ گوشت پر سیلز ٹیکس کے فرق کا جائزہ لینے، بیماریوں کے کنٹرول اور بہتر نسلوں کے لیے قومی مویشی و بکری فارمنگ پروگرام، ذخیرہ گاہوں اور الیکٹرانک ویئرہاؤس رسید نظام کے تحفظ، کم معیار کے چاول کی برآمد روکنے کے لیے ریگولیٹری کارروائی، زیادہ پیداوار دینے والی برآمدی پھل اقسام، قومی نامیاتی معیار اور چھوٹے کاشت کاروں کے لیے کم لاگت گروپ سرٹیفکیشن کی تجاویز پیش کیں۔ یہ شرکا کی سفارشات ہیں؛ انہیں منظور شدہ حکومتی فیصلے نہیں سمجھا جائے گا۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ نے اجلاس کو افزائشِ نسل پالیسی، اینیمل ہیلتھ بل اور 7.35 ارب روپے کے مویشی ٹریس ایبلٹی پروگرام سمیت موجودہ قانونی و ادارہ جاتی اقدامات سے آگاہ کیا، مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ مؤثر نتائج کے لیے مناسب فنڈنگ اور صوبائی سطح پر اپنانا ضروری ہوگا۔ تازہ پیش رفت کا تصدیق شدہ دائرہ مشترکہ مشاورت، رکاوٹوں کی نشان دہی اور روڈ میپ کی تیاری ہے؛ برآمدی نتائج کا حتمی جائزہ آئندہ منظوریوں، بجٹ، عمل درآمد اور حقیقی تجارتی اعداد سے ہوگا۔




