واشنگٹن: امریکا میں اگست 2026 کے دوران غیر زرعی شعبوں میں مجموعی طور پر 162 ہزار ملازمتوں کا اضافہ ہوا، جبکہ بے روزگاری کی شرح مسلسل دوسرے مہینے 4.1 فیصد پر برقرار رہی۔ امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس، بی ایل ایس، نے 4 ستمبر کو جاری ماہانہ ایمپلائمنٹ سیچوایشن رپورٹ میں بتایا کہ بے روزگار افراد کی تعداد تقریباً 70 لاکھ رہی اور ماہانہ بنیاد پر اس میں محدود تبدیلی آئی۔

تازہ پے رول اضافہ گزشتہ 12 ماہ کے 31 ہزار کے اوسط ماہانہ اضافے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ بی ایل ایس کے مطابق سب سے بڑا اضافہ خوراک اور مشروبات پیش کرنے والے اداروں میں ہوا، جہاں 59 ہزار ملازمتیں بڑھیں۔ مقامی حکومتوں کے تعلیمی شعبے نے 42 ہزار ملازمتیں شامل کیں، جو گزشتہ ماہ کی کمی کا بڑا حصہ واپس لانے کے برابر تھا۔

مینوفیکچرنگ میں روزگار 16 ہزار بڑھا اور دسمبر 2025 کی حالیہ کم ترین سطح کے بعد اس شعبے میں مجموعی اضافہ 58 ہزار تک پہنچ گیا۔ مشینری اور تیار شدہ دھاتی مصنوعات بنانے والی صنعتوں میں چھ چھ ہزار ملازمتوں کا رجحانی اضافہ رپورٹ ہوا۔ صحت کے شعبے میں 13 ہزار ملازمتیں بڑھیں، اگرچہ یہ گزشتہ ایک سال کے 32 ہزار کے اوسط ماہانہ اضافے سے کم رفتار تھی۔ تعمیرات میں 22 ہزار کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جسے ادارے نے مجموعی طور پر معمولی تبدیلی قرار دیا۔

اس کے برعکس انفارمیشن صنعت میں 23 ہزار ملازمتیں کم ہوئیں۔ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، ڈیٹا پراسیسنگ اور ویب ہوسٹنگ سے منسلک خدمات میں آٹھ ہزار، اشاعتی صنعتوں میں سات ہزار اور نشریات و مواد فراہم کرنے والے اداروں میں پانچ ہزار ملازمتوں کی کمی ہوئی۔ دیگر بڑے شعبوں، جن میں کان کنی، تیل و گیس، تھوک و پرچون تجارت، نقل و حمل، مالی سرگرمیاں اور پیشہ ورانہ خدمات شامل ہیں، میں مجموعی تبدیلی محدود رہی۔

بی ایل ایس نے گزشتہ دو ماہ کے اعداد میں بھی اوپر کی طرف نظرثانی کی۔ جون کا اضافہ پہلے رپورٹ کردہ 20 ہزار سے بڑھا کر 31 ہزار اور جولائی کا تخمینہ 23 ہزار کی کمی سے بدل کر 21 ہزار کے اضافے پر کر دیا گیا۔ دونوں مہینوں کو ملا کر روزگار کا نظرثانی شدہ تخمینہ پہلے جاری اعداد سے 55 ہزار زیادہ ہے۔ ماہانہ پے رول اعداد کاروباری اداروں اور سرکاری ایجنسیوں سے مزید رپورٹس آنے اور موسمی عوامل کی دوبارہ گنتی کے باعث بعد میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

گھریلو سروے کے مطابق لیبر فورس میں شرکت کی شرح 0.2 فیصد پوائنٹ بڑھ کر 61.6 فیصد ہوئی، مگر جنوری کے مقابلے میں اب بھی 0.5 پوائنٹ کم ہے۔ آبادی میں روزگار کا تناسب 59.1 فیصد رہا۔ 27 ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے سے بے روزگار افراد کی تعداد تقریباً 19 لاکھ تھی، جو تمام بے روزگاروں کا 27 فیصد بنتی ہے۔ معاشی وجوہ سے جز وقتی کام کرنے والوں کی تعداد 4 لاکھ 14 ہزار کم ہو کر 44 لاکھ رہ گئی۔

نجی غیر زرعی ملازمین کی اوسط فی گھنٹہ اجرت اگست میں 10 سینٹ، یا 0.3 فیصد، بڑھ کر 37.75 ڈالر ہو گئی۔ سالانہ بنیاد پر اوسط اجرت 3.1 فیصد بڑھی، جبکہ نجی شعبے کے تمام ملازمین کا اوسط ہفتۂ کار 0.1 گھنٹہ بڑھ کر 34.4 گھنٹے رہا۔ یہ اعداد اجرت کی عمومی سمت دکھاتے ہیں، مگر قیمتوں میں تبدیلی کے بعد حقیقی قوتِ خرید کا تعین الگ مہنگائی اعداد سے ہوتا ہے۔

پے رول روزگار اور بے روزگاری کی شرح دو مختلف سرویز سے حاصل ہوتی ہے۔ ادارہ جاتی سروے کاروباروں اور سرکاری اداروں میں ملازمتوں، اوقات اور اجرت کا اندازہ دیتا ہے، جبکہ گھریلو سروے افراد کی ملازمت، بے روزگاری اور لیبر فورس میں شرکت ناپتا ہے۔ اسی وجہ سے دونوں پیمانے ایک ہی ماہ میں مختلف سمت یا رفتار دکھا سکتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق توقع سے مضبوط روزگار رپورٹ نے امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرحِ سود پالیسی پر نئی بحث پیدا کی، مگر سودی فیصلے کا انحصار روزگار کے ساتھ مہنگائی اور دیگر معاشی اعداد پر بھی ہوگا۔ اگست کے اعداد کا بنیادی تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ پے رول میں واضح بحالی ہوئی، بے روزگاری 4.1 فیصد پر مستحکم رہی اور سابقہ دو ماہ کے تخمینے بہتر کیے گئے۔