پیرس/اسلام آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ کی نئی مشترکہ رپورٹ میں عمان سے پاکستان غیر لائسنس یافتہ ترسیلات کے ایک مبینہ نیٹ ورک کو ”ڈیجیٹل حوالہ“ کی عملی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 4 ستمبر کو وضاحت کی کہ رپورٹ نے راست کو منی لانڈرنگ کا طریقہ قرار نہیں دیا اور نہ ہی پاکستان کے فوری ادائیگی نظام کی سالمیت پر کوئی مخصوص اعتراض اٹھایا ہے۔

FATF نے 3 ستمبر کو ”پیشہ ورانہ منی لانڈرنگ، زیرِ زمین بینکاری اور حوالہ و اسی نوعیت کے خدمات فراہم کنندگان کے استعمال کی تحقیقات“ کے عنوان سے رپورٹ جاری کی۔ یہ کسی ایک ملک کی باہمی جانچ، گرے لسٹ فیصلہ یا پاکستان کے خلاف نئی کارروائی نہیں بلکہ مختلف ممالک سے حاصل معلومات اور کیس اسٹڈیز پر مبنی عالمی طریقۂ کار کی رپورٹ ہے۔ FATF کے مطابق 46 دائرہ ہائے اختیار نے دو سوال ناموں کا جواب دیا، جبکہ رکن اداروں اور ماہرین نے اضافی معلومات فراہم کیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیرِ زمین بینکاری اور حوالہ یا اس جیسے خدمات فراہم کنندگان، جنہیں HOSSPs کہا گیا ہے، جائز ترسیلات اور قدر کی منتقلی کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں اور ان کا ہر استعمال خود بخود جرم نہیں۔ تاہم بیشتر ملکوں میں غیر رجسٹرڈ یا غیر لائسنس یافتہ ترسیلی خدمت چلانا قانون کی خلاف ورزی ہوتا ہے، جبکہ انہی ڈھانچوں کو پیشہ ورانہ منی لانڈرنگ اور دوسرے مالی جرائم کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عمان سے متعلق کیس اسٹڈی میں بتایا گیا کہ مرکزی بینک عمان کو اپنے مخبر چینل کے ذریعے ایسے افراد کی اطلاع ملی جن پر پاکستان کے لیے غیر لائسنس یافتہ سرحد پار ترسیلی کاروبار چلانے کا شبہ تھا۔ ایک رپورٹنگ ادارے نے مخصوص ترسیلی راہداریوں میں صارفین کی باضابطہ ترسیلات اچانک کم ہونے کے بعد سرگرمی کا نوٹس لیا۔ عمانی حکام نے صارفین سے رابطہ، سوشل میڈیا نگرانی، آف سائٹ تجزیہ اور متعلقہ واٹس ایپ گروپ میں شمولیت کے ذریعے مزید معلومات جمع کیں۔

رپورٹ کے مطابق ”XX Money Exchange“ نامی واٹس ایپ گروپ مبینہ طور پر غیر ملکی شہری چلا رہے تھے اور عمان میں تارکینِ وطن کو زرمبادلہ اور ترسیلی خدمات پیش کرتے تھے۔ مشتبہ آپریٹرز رسمی مارکیٹ سے کم شرح، نہایت کم یا بغیر فیس خدمات کا دعویٰ کرتے اور صارفین کو گروپ دوسروں تک پہنچانے کی ترغیب دیتے تھے۔ صارفین نقد یا موبائل سے منسلک ادائیگی کے ذریعے رقم دیتے، جس کے بعد آپریٹر مبینہ طور پر منزل والے ملک میں موجود ای والٹ پر ادائیگی کے ثبوت کی تصویر بھیجتے تھے۔

کیس اسٹڈی میں کہا گیا کہ نیٹ ورک نے منزل والے ممالک میں کم لاگت کے ملکی ادائیگی راستوں، پاکستان میں راست جیسے بغیر فیس چینل، اور بعض ڈیجیٹل والٹ یا ادائیگی فراہم کنندگان کی شرحِ مبادلہ کے فرق سے فائدہ اٹھایا۔ عمانی حکام نے چھ مشتبہ افراد کو ایک مربوط حوالہ نیٹ ورک کا حصہ سمجھا اور ایک سال میں تقریباً 72,293 ڈالر کے لین دین کے بہاؤ کی نشان دہی کی۔ رپورٹ میں ان افراد کی شناخت، فردِ جرم، عدالتی فیصلے یا رقم کو کسی مخصوص بنیادی جرم کی ثابت شدہ آمدن قرار دینے کی تفصیل شامل نہیں؛ اس لیے یہ معلومات تفتیشی کیس اسٹڈی اور شبہے کی سطح پر ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے ایک سوشل میڈیا سرخی کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ FATF رپورٹ نہ راست کو منی لانڈرنگ کا طریقہ قرار دیتی ہے اور نہ اس کے ادائیگی بنیادی ڈھانچے کی سالمیت کے بارے میں مخصوص تشویش ظاہر کرتی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق راست ایک جائز ملکی ادائیگی چینل ہے، صرف پاکستان کے اندر ادائیگیوں اور رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور فی الحال سرحد پار ترسیلات کی سہولت فراہم نہیں کرتا۔

اس وضاحت کا مطلب یہ ہے کہ رپورٹ میں راست کا ذکر مبینہ غیر رسمی سرحد پار بندوبست کے پاکستانی ملکی حصے میں استعمال ہونے والے رسمی ادائیگی راستے کے طور پر ہے، نہ کہ اس نظام کو بذاتِ خود حوالہ یا منی لانڈرنگ نیٹ ورک قرار دینے کے طور پر۔ قانونی ادائیگی نظام کا کسی مشتبہ شخص کے ہاتھوں استعمال اور خود نظام کی مجرمانہ نوعیت دو مختلف امور ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ وہ پاکستان کے ادائیگی نظاموں کی نگرانی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق حفاظتی اقدامات مضبوط کرتا رہے گا۔

عالمی سطح پر FATF نے بتایا کہ 80 فیصد سے زیادہ رپورٹنگ دائرہ ہائے اختیار نے زیرِ زمین بینکاری اور HOSSPs کو پیشہ ورانہ منی لانڈرنگ کے نمایاں راستوں میں شمار کیا، جبکہ قریب 70 فیصد جواب دہندگان نے نئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے انضمام کی نشان دہی کی۔ رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور سگنل جیسے پیغام رسانی پلیٹ فارم، موبائل والٹس، فن ٹیک ایپس، فوری ادائیگی نظام، ورچوئل اثاثے، اسٹیبل کوائن، مصنوعی ذہانت کے اوزار اور مخصوص حوالہ ایپس رابطے، ادائیگی یا آپریٹرز کے باہمی حساب کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ یہ عالمی رجحانات ہیں اور انہیں پاکستان کے ہر ڈیجیٹل ادائیگی صارف یا ادارے سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

FATF نے لائسنسنگ و رجسٹریشن کی واضح شرائط، غیر روایتی نگرانی، مالیاتی انٹیلی جنس، عوامی و نجی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے، متاثرہ تارکینِ وطن برادریوں سے آگاہی رابطے اور بین الاقوامی تعاون کو اہم اقدامات قرار دیا۔ رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ حوالہ نیٹ ورک اب نقد تک محدود نہیں رہے بلکہ رسمی مالیاتی بنیادی ڈھانچے اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملے جلے طریقے اپنا رہے ہیں۔ پاکستان سے متعلق درست نتیجہ عمانی حکام کے فراہم کردہ ایک مشتبہ کیس اور اسٹیٹ بینک کی راست کے دائرۂ کار سے متعلق وضاحت تک محدود ہے۔