سنگاپور/لندن: امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی جھڑپوں اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں جاری غیر یقینی کے باعث عالمی خام تیل کے دونوں بڑے بینچ مارک ہفتہ وار نمایاں اضافے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ رائٹرز کی 4 ستمبر کو 12:30 جی ایم ٹی کی مارکیٹ اپ ڈیٹ کے مطابق برینٹ خام تیل ہفتے میں 6.1 فیصد اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 8.3 فیصد بلند تھا۔ یہ اعداد کاروباری ہفتہ مکمل ہونے سے پہلے کے ہیں، اس لیے انہیں حتمی ہفتہ وار بندش نہیں سمجھا جا سکتا۔
اسی وقت جمعہ کے یومیہ کاروبار میں دونوں معاہدے قدرے نیچے تھے۔ برینٹ 75 سینٹ، یا 0.79 فیصد، کم ہو کر 94.77 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی 95 سینٹ، یا 1.04 فیصد، گھٹ کر 90.35 ڈالر فی بیرل پر تھا۔ دی ایکسپریس ٹریبیون نے دن کے اس سے پہلے کے پاکستانی وقت 1:13 بجے کے اسنیپ شاٹ میں بالترتیب 95.05 اور 90.66 ڈالر رپورٹ کیے تھے۔ دونوں سیٹ مختلف اوقات کے مارکیٹ نرخ ہیں، اس لیے فرق تضاد نہیں بلکہ مسلسل بدلتی قیمتوں کی عکاسی کرتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اس ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حملے جولائی کے بعد شدید ترین جھڑپوں میں شمار کیے گئے، جس سے مشرق وسطیٰ کی سپلائی کے لیے خطرے کا اضافی پریمیم قیمتوں میں شامل ہوا۔ امریکی حکومت نے حالیہ ہفتوں میں علاقائی تیل کی روانی معمول کے قریب آنے کا مؤقف دیا، مگر تجزیہ کاروں اور جہازوں کے ٹریکرز نے کہا کہ رکاوٹیں بدستور اہم ہیں۔ جنگی کارروائیوں سے متعلق ہلاکتوں اور ذمہ داری کے دعوے متحارب فریقوں کے بیانات اور الگ رپورٹنگ کا موضوع ہیں؛ اس کاروباری رپورٹ کا مرکز منڈی اور نقل و حمل کے اثرات ہیں۔
ابتدائی کے پلر ڈیٹا کے مطابق جمعرات کو صرف چار کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ دس روزہ اوسط تقریباً 15 تھی۔ ڈان کے مطابق اس گنتی میں ایسے جہاز شامل نہیں ہو سکتے جنہوں نے شناختی ٹرانسپونڈر بند کیے ہوں، اس لیے اسے مکمل ٹریفک شمار نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسی ہفتے صرف دو بہت بڑے خام تیل بردار جہاز گزرنے کی اطلاع دی گئی۔ دوسری طرف عراق نے اگست میں اپنی تیل برآمدات تقریباً 23 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ تک بڑھانے کی اطلاع دی، جو جولائی میں قریب 13 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ تھیں، جس سے بعض اضافی بیرل منڈی میں آئے۔
سپلائی کے خدشات نے ایندھن کی دوسری منڈیوں کو بھی متاثر کیا۔ رائٹرز کے مطابق امریکا میں اوسط ڈیزل قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچیں، جس میں امریکا ایران کشیدگی کے ساتھ روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں سے پیدا ہونے والے خدشات بھی شامل تھے۔ سٹی نے تیسری سہ ماہی کے لیے اوسط برینٹ پیش گوئی 80 سے بڑھا کر 86 ڈالر فی بیرل کی، جبکہ اے این زیڈ نے قلیل مدتی اندازہ 95 ڈالر کیا اور مزید کشیدگی کی صورت میں اوپر جانے کا خطرہ بتایا۔ یہ بینکوں کے تجزیاتی تخمینے ہیں، یقینی قیمتیں نہیں؛ اصل رخ جنگ، آبنائے ہرمز کی عملی ٹریفک، پیداوار اور عالمی طلب سے متعین ہوگا۔




