آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم افتخار گیلانی نے اپنی حکومت کی آٹھ رکنی کابینہ تشکیل دے دی ہے، جس کے ارکان نے مظفرآباد میں حلف اٹھا لیا۔ تقریب ایوانِ صدر میں ہوئی جہاں قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق نے نئے وزرا سے حلف لیا۔ وزیراعظم بھی تقریب میں موجود تھے۔ نئی کابینہ نسبتاً مختصر رکھی گئی ہے اور فوری طور پر کسی مشیر یا معاون خصوصی کی تقرری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
کابینہ میں سات براہِ راست منتخب اور ایک بالواسطہ منتخب رکن شامل ہیں۔ حلف اٹھانے والوں میں راجہ ثاقب مجید، ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی، سردار میر اکبر، راجہ ریاست، راجہ عمیر نعیم، وقار نور اور چوہدری اظہر صادق سمیت آٹھ ارکان شامل کیے گئے۔ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ان ارکان میں سابق وزرا اور پہلی مرتبہ اسمبلی میں آنے والے بعض قانون ساز بھی شامل ہیں۔
حلف برداری کے وقت وزرا کے قلمدانوں کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے انتظامی ذمہ داریوں کی حتمی تقسیم بعد میں متوقع ہے۔ حکومت کے لیے کابینہ کی تشکیل اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کے بعد ترقیاتی منصوبوں، محکمانہ فیصلوں، بجٹ پر عمل درآمد اور روزمرہ حکومتی امور کو زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھایا جا سکے گا۔ قلمدانوں کی تقسیم سے یہ بھی واضح ہوگا کہ خزانہ، تعمیرات، تعلیم، صحت، بلدیات اور دیگر کلیدی شعبوں کی ذمہ داریاں کن ارکان کے سپرد کی جاتی ہیں۔
نئی حکومت کو ایسے وقت میں انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں جب آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام، عوامی خدمات، ترقیاتی ترجیحات اور مرکز کے ساتھ مالی و انتظامی روابط اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ کابینہ کا چھوٹا حجم فوری طور پر حکومت کے ابتدائی ڈھانچے کی تصویر پیش کرتا ہے، تاہم مستقبل میں اس میں توسیع یا مزید تقرریاں کی جائیں گی یا نہیں، اس بارے میں کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
دستیاب رپورٹنگ کے مطابق بعض نمایاں نام، جن میں نوریـن عارف اور مہاجر نشستوں سے منتخب بعض قانون ساز شامل ہیں، ابتدائی تقرریوں میں شامل نہیں کیے گئے۔ اس مرحلے پر خبر کا بنیادی اور مصدقہ نکتہ کابینہ کی تشکیل، آٹھ ارکان کی حلف برداری اور قلمدانوں کے بعد میں تفویض کیے جانے کا فیصلہ ہے۔ مزید سیاسی یا انتظامی اثرات کا انحصار آئندہ قلمدانوں، پالیسی ترجیحات اور اسمبلی میں حکومتی حکمت عملی پر ہوگا۔




