وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی بڑی تبدیلی، بشمول نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام، کا فیصلہ عوامی رضامندی، آئینی تقاضوں اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کے تحت ہونا چاہیے۔ لاہور میں قومی پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے سابقہ ’سسٹم ری سیٹ‘ کے بیان کی وضاحت کی اور کہا کہ اس سے مراد نظام کو توڑنا نہیں بلکہ ان خامیوں کو درست کرنا ہے جو طویل عرصے سے حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

نقوی کے مطابق انتظامی اصلاحات کسی ایک فرد، جماعت یا حکومت کی خواہش پر مسلط نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ تبدیلیوں کے فوائد، طریقہ کار، مالی اثرات اور علاقائی حدود پر پارلیمان، ماہرین اور سیاسی جماعتوں کو کھلی بحث کرنی چاہیے، جس کے بعد عوام کی رائے کو بنیادی حیثیت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ نئے انتظامی یونٹس کے حق میں نہ ہوں تو ایسے یونٹس نہیں بننے چاہییں۔

وزیر داخلہ نے اس بحث کو نسلی، لسانی یا علاقائی تقسیم سے جوڑنے کے بجائے بہتر حکمرانی، انتظامی کارکردگی اور حکومت کو شہریوں کے قریب لانے کے تناظر میں دیکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی یا مقامی شناختوں کو ختم کرنا اس تجویز کا مقصد نہیں۔ نقوی نے اسلام آباد کو صوبائی حیثیت دینے کی اپنی حمایت بھی دہرائی اور وفاقی دارالحکومت کے لیے قومی مالیاتی کمیشن میں حصہ ملنے کی ضرورت کا ذکر کیا۔

انہوں نے تعلیم، پینے کے صاف پانی اور عدالتی مقدمات کے التوا جیسے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ انتظامی نظام کی کارکردگی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی تبدیلی کو آئین، جمہوری عمل اور سیاسی مشاورت کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا معاملہ حالیہ ہفتوں میں قومی سیاست میں اہم بحث بن چکا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔