پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں ہاؤس آفیسرز کے لیے فائر سیفٹی کی باقاعدہ تربیت کو لازمی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کونسل کے مطابق اس تربیتی پروگرام کو ہاؤس جاب کے اندر شامل کیا جائے گا اور اس کے لیے مخصوص تربیتی اوقات مختص کیے جائیں گے تاکہ نئے ڈاکٹرز اور ڈینٹل گریجویٹس آگ لگنے کی صورت میں مریضوں، ساتھی عملے اور خود اپنی حفاظت کے لیے عملی طور پر تیار ہوں۔
پی ایم ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کے مطابق فیصلہ موجودہ فائر سیفٹی پروٹوکولز کے جائزے اور میڈیکل کالجوں و تدریسی اسپتالوں میں ہنگامی تیاری کے خلا کی نشاندہی کے بعد کیا گیا۔ پروگرام میں آگ سے بچاؤ کے بنیادی اصول، ممکنہ خطرات کی شناخت، فائر ایکسٹنگوشر کے درست استعمال، ایمرجنسی رابطہ کاری، مریضوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے اور طے شدہ انخلا راستوں پر عمل کی تربیت شامل ہوگی۔
کونسل نے میڈیکل کالجوں اور ٹیچنگ ہسپتالوں کو باقاعدہ فائر ڈرلز اور انخلا مشقیں کرانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ پی ایم ڈی سی کے مطابق صحت کے اداروں میں بہت سے مریض ایسے ہوتے ہیں جو نقل و حرکت یا طبی حالت کی وجہ سے خود سے فوری طور پر عمارت سے باہر نہیں جا سکتے، اس لیے ہاؤس آفیسرز اور دیگر طبی عملے کی تربیت عام اداروں کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ کونسل کا مؤقف ہے کہ صرف ہنگامی رسپانس ٹیموں پر انحصار کے بجائے پورے طبی نظام میں تیاری کا کلچر پیدا ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر رضوان تاج نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں اس تربیت کو میڈیکل طلبہ، پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں اور دیگر ہیلتھ کیئر پروفیشنلز تک توسیع دینے میں دلچسپی ہے۔ ابھی اعلان کا بنیادی دائرہ ہاؤس آفیسرز ہے، اس لیے عمل درآمد کی تفصیلات متعلقہ اداروں کے انتظامی ڈھانچے اور پی ایم ڈی سی کی مزید ہدایات کے مطابق سامنے آئیں گی۔
اس فیصلے کا مقصد کسی مخصوص حادثے کی تحقیقات کا نتیجہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ کونسل نے اسے مجموعی فائر ایمرجنسی تیاری بہتر بنانے کی پالیسی کے طور پر پیش کیا ہے۔ عملی طور پر اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ادارے ڈرلز کتنی باقاعدگی سے کراتے ہیں، عمارتوں کے فائر سیفٹی انتظامات کس معیار کے ہیں اور ہاؤس آفیسرز کو صرف نظریاتی مواد کے بجائے مؤثر عملی مشق بھی ملتی ہے۔




