وفاقی حکومت نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (سی)، میجر جنرل فیصل نصیر، کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا ہے۔ یہ تقرری انسداد دہشت گردی کے وفاقی رابطہ ڈھانچے میں اہم تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ نیکٹا کا بنیادی کردار وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان پالیسی اور عملی رابطہ مضبوط کرنا ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی میں ڈی جی (سی) کا عہدہ عام طور پر غلط طور پر کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ کے سربراہ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جبکہ یہ دراصل ایجنسی کے داخلی ونگ کی قیادت سے متعلق ہے، جو داخلی سلامتی اور دیگر اہم معاملات سے نمٹتا ہے۔ اسی نوعیت کی ذمہ داریوں کے باعث یہ منصب آئی ایس آئی کے اندر انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ میجر جنرل فیصل نصیر 2022 سے اس عہدے پر تعینات تھے۔

نیکٹا 2009 میں قائم کیا گیا اور 2013 کے نیکٹا ایکٹ کے ذریعے اسے قانونی بنیاد فراہم کی گئی۔ ادارے کا مقصد ملک بھر میں انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کی پالیسیوں کے لیے مرکزی سویلین رابطہ پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔ تاہم مختلف ادوار میں ادارے کی محدود عملی صلاحیت، بار بار قیادت کی تبدیلی اور وفاقی و صوبائی اداروں پر فیصلوں کے نفاذ کی کمزور قوت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

میجر جنرل فیصل نصیر کی تقرری اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ نیکٹا کے بیشتر سابق نیشنل کوآرڈینیٹر پولیس سروس یا سول سکیورٹی پس منظر سے آئے ہیں۔ ایک حاضر سروس سینئر فوجی افسر کی تعیناتی ممکنہ طور پر اس ادارے کو زیادہ وزن دینے یا مختلف سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ بڑھانے کی کوشش کی علامت ہو سکتی ہے، تاہم حکومت نے تبدیلی کی مکمل وجوہات فوری طور پر بیان نہیں کیں۔ اس لیے اس تقرری کے عملی اثرات کا اندازہ نیکٹا کے آئندہ فیصلوں، ادارہ جاتی اختیارات اور وفاقی و صوبائی رابطے کی سطح سے ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق یہ تبادلہ فوج میں آئندہ ترقیوں کے مرحلے سے پہلے ہوا ہے، جس کے باعث عسکری حلقوں میں بھی اس پر توجہ دی جا رہی ہے۔ تاہم ترقی یا آئندہ فوجی تعیناتیوں سے متعلق کوئی حتمی نتیجہ سرکاری طور پر سامنے نہیں آیا۔ موجودہ طور پر مصدقہ پیش رفت یہی ہے کہ میجر جنرل فیصل نصیر کو آئی ایس آئی کے داخلی ونگ سے نیکٹا منتقل کرکے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔