مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے قریب پیر 12 اکتوبر 2026 کو بارودی سرنگ کے دھماکے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ آزاد کشمیر کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک ریلیشنز کے مطابق واقعہ تحصیل ہجیرہ میں پیش آیا، جہاں چار افراد چشمے سے آنے والے پانی کی پائپ لائن کی مرمت کے لیے موجود تھے۔ سرکاری بیان کے مطابق دھماکے میں چاروں افراد موقع پر جان کی بازی ہار گئے۔

سرکاری محکمہ تعلقاتِ عامہ نے ابتدائی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بارودی سرنگ بھارتی جانب سے بہہ کر اس علاقے میں پہنچی تھی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب بعض علاقوں میں سرحدی حد بندی کی پیچیدگیوں اور بہہ کر آنے والے غیر پھٹے بارودی مواد کی وجہ سے شہریوں اور مویشیوں کو مسلسل خطرات لاحق رہتے ہیں۔ تاہم بیان میں دھماکے کی تکنیکی تحقیقات یا سرنگ کی شناخت کے بارے میں مزید تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

ڈان سے گفتگو میں پونچھ کے ڈویژنل کمشنر سردار وحید خان نے الزام لگایا کہ بھارتی فوج کے اہلکاروں نے بارودی سرنگ نصب کی تھی۔ یہ ایک سرکاری عہدیدار کا الزام ہے؛ دستیاب معلومات میں اس کی آزادانہ تصدیق، فرانزک نتیجہ یا بھارتی حکام کا جواب شامل نہیں۔ اسی لیے واقعے میں ہونے والی اموات اور سرنگ کے ذمہ دار فریق سے متعلق دعووں کو الگ الگ بیان کرنا ضروری ہے۔

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے چار افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور لواحقین سے تعزیت کی۔ انہوں نے لائن آف کنٹرول کے قریب شہری سرگرمیوں کے دوران پیش آنے والے خطرات کے حوالے سے بھارت پر تنقید بھی کی۔ ان کا بیان سیاسی ردعمل ہے، نہ کہ دھماکے کی کسی عدالتی یا تکنیکی تحقیقات کا نتیجہ۔

یہ واقعہ اس خطرے کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرحدی علاقوں میں روزمرہ کی سرگرمیاں، جیسے پانی کی لائن درست کرنا، مویشی چرانا یا چارہ جمع کرنا، غیر پھٹے دھماکا خیز مواد کی موجودگی میں جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں۔ سرنگوں کے بارے میں مؤثر معلومات اور متعلقہ حکام کی حفاظتی ہدایات مقامی آبادی کے لیے اہم ہیں۔

سرکاری رپورٹ میں متاثرین کی مزید شناخت، دھماکے کے عین مقام اور تکنیکی شواہد کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ اس وقت تصدیق شدہ بنیادی خبر چار افراد کی ہلاکت ہے؛ سرنگ کہاں سے آئی اور کس نے نصب کی، اس بارے میں مزید قابلِ اعتماد شواہد درکار ہیں۔