اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے پیر 12 اکتوبر کو اعلان کیا ہے کہ سلطنت عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی 13 سے 14 اکتوبر تک دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان آئیں گے۔ یہ دورہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر طے کیا گیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس موقع پر پاکستان اور عمان کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا آٹھواں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
سرکاری اعلان میں بتایا گیا ہے کہ کمیشن کے اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان اور عمان کے وزرائے خارجہ کریں گے۔ اس فورم کا مقصد دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا اور باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کرنا ہے۔ عمانی وزیر خارجہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے خیرسگالی ملاقات بھی متوقع ہے، تاہم ابتدائی بیان میں اس ملاقات کا حتمی وقت نہیں بتایا گیا۔
پاکستانی حکام نے کمیشن کے اجلاس کی تیاریوں کے لیے پہلے ہی بین الوزارتی مشاورت کی ہے۔ 10 اکتوبر کو اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں مجوزہ ایجنڈے، ممکنہ دوطرفہ معاہدوں اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔ حکومتی اطلاعات کے مطابق مشترکہ وزارتی کمیشن میں تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، مالیات، تیل و گیس اور افرادی قوت کے معاملات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔
دیگر مجوزہ موضوعات میں قونصلر امور، سلامتی، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، شہری ہوا بازی، تعلیم، ذرائع ابلاغ اور ثقافتی تعاون شامل ہیں۔ یہ فہرست گفتگو کے مجوزہ شعبوں کی نشاندہی کرتی ہے؛ ان میں سے کسی شعبے میں نیا معاہدہ یا منصوبہ مکمل ہونے کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔ دفتر خارجہ نے اس دورے کو دونوں ملکوں کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کی عکاسی قرار دیا ہے۔
پاکستان اور عمان کے درمیان سفارتی اور عوامی روابط کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ مشترکہ وزارتی کمیشن کا طریقہ کار مختلف وزارتوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر معاملات کا جائزہ لینے اور مستقبل کے تعاون کی سمت متعین کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اسحاق ڈار نے تیاریوں کے اجلاس میں متعلقہ اداروں کو جامع تیاری اور مؤثر فالو اپ کی ہدایت کی تاکہ بات چیت کے عملی نتائج سامنے آسکیں۔
موجودہ مرحلے پر یہ خبر طے شدہ دورے اور اجلاس کے سرکاری اعلان سے متعلق ہے۔ اجلاس کے انعقاد، ممکنہ سمجھوتوں اور مشترکہ فیصلوں کی حتمی تفصیلات 13 اور 14 اکتوبر کی ملاقاتوں کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔
