اسلام آباد: طویل تاخیر کا شکار اسلام آباد ماڈل جیل منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے اور حکام اب اس کے افتتاح کے منتظر ہیں۔ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے مطابق سیکٹر ایچ 16 میں تعمیر ہونے والے اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں تین بیرکیں بنائی گئی ہیں جن میں تقریباً پندرہ سو قیدیوں کی گنجائش ہوگی۔ اس کے علاوہ پینتیس بستروں پر مشتمل اسپتال بھی قائم کیا گیا ہے۔

سی ڈی اے کے ایک افسر نے بتایا کہ پہلے مرحلے کی تعمیر مکمل ہے اور افتتاح سے پہلے عمارتوں کی صفائی، باغبانی اور اطراف کی تزئین کا کام آخری مراحل میں ہے۔ حکام کو توقع ہے کہ وزیراعظم یا وزیر داخلہ جلد افتتاح کریں گے، تاہم رپورٹ میں افتتاح کی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔ اسلام آباد انتظامیہ نے ضروری عملے کی تعیناتی بھی کردی ہے۔

ماڈل جیل منصوبے کی تکمیل وفاقی دارالحکومت کے لیے اہم انتظامی پیش رفت ہے کیونکہ اسلام آباد کی اپنی جیل نہ ہونے کے باعث وفاقی دارالحکومت کے مقدمات میں گرفتار افراد کو پنجاب کی اڈیالہ جیل میں رکھا جاتا رہا ہے۔ حکام کے مطابق نئی جیل کھلنے کے بعد اسلام آباد کے مقدمات سے متعلق قیدیوں کو یہاں منتقل کرنے کا عمل شروع کیا جاسکے گا۔ تاہم عمارت تیار ہونا اور قیدیوں کی منتقلی شروع ہونا دو الگ مراحل ہیں۔

منصوبے کی منظوری 2016 میں تقریباً تین ارب 90 کروڑ روپے کی تخمینی لاگت کے ساتھ دی گئی تھی اور ابتدائی ہدف 2019 تک تکمیل کا تھا۔ لیکن فنڈز کی کمی اور دیگر مسائل کی وجہ سے تعمیر طویل عرصے تک تاخیر کا شکار رہی۔ منصوبے کی ابتدائی ذمہ داری وفاقی انتظامیہ اور اس وقت کے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے پاس تھی۔ بعد میں اسے سی ڈی اے کے حوالے کیا گیا جس نے پہلے مرحلے کو مکمل کیا۔

سی ڈی اے افسر کے مطابق پہلے مرحلے پر تقریباً سات ارب روپے خرچ ہوئے، جس میں سابقہ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے استعمال ہونے والے فنڈز بھی شامل ہیں۔ اس رقم کا موازنہ ابتدائی تخمینے سے کیا جاسکتا ہے، لیکن منصوبے کے تمام مراحل کی حتمی مجموعی لاگت اسی رقم کو نہیں کہا جاسکتا۔

حکام نے بتایا کہ جیل مینول کے مطابق خوراک، کپڑے دھونے اور علاج سمیت بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلا مرحلہ بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل ہوگا۔ موجودہ مصدقہ پیش رفت پہلے مرحلے کی تعمیر کی تکمیل ہے؛ جیل کے باقاعدہ افتتاح، قیدیوں کی منتقلی اور دیگر مراحل کی تکمیل کے لیے مزید سرکاری اعلانات درکار ہوں گے۔