اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پیر 12 اکتوبر 2026 کو جیل حکام کو ہدایت کی کہ انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو اپنی قانونی ٹیم سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ دونوں ایک ایسے مقدمے میں زیرِ حراست ہیں جس کا تعلق مبینہ طور پر سکیورٹی رکاوٹیں ہٹانے اور بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ میں خلل ڈالنے سے ہے۔ مقدمے میں لگائے گئے الزامات عدالت میں زیرِ سماعت ہیں اور انہیں ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جاسکتا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کے دوران وکلا ریاست علی آزاد، زینب جنجوعہ اور ایمل خان کو جیل میں ملزمان سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم دیا۔ ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری بھی عدالت میں موجود تھیں۔ ایمان اور ہادی نے کارروائی میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

دفاعی وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ قانونی نمائندوں سے مناسب رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے مقدمے کی تیاری اور منصفانہ سماعت متاثر ہوسکتی ہے۔ وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ دفاع کو مبینہ واقعے کی مکمل تفصیلات اور مقام سے متعلق بھی سوالات ہیں۔ ہادی علی چٹھہ نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں ذاتی طور پر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ وہ اپنا مؤقف پیش کرسکیں۔

رپورٹ کے مطابق دونوں پر سات اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ دس اکتوبر کو انسداد دہشت گردی عدالت نے دہشت گردی کی دفعات خارج کرنے سے متعلق ان کی درخواست نمٹا دی تھی۔ دفاع نے عدالت کو بتایا کہ اس فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔ فرد جرم عائد ہونا کسی الزام کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں اور مقدمے کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

سماعت میں اڈیالہ جیل حکام کی دو الگ رپورٹوں میں بظاہر تضاد کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ ایک مقدمے میں دس اکتوبر کو ایمان مزاری کی ویڈیو لنک پیشی درج تھی جبکہ دوسرے مقدمے میں اسی دن انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے پیشی ممکن نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا گیا۔ جج نے اس فرق پر سوال اٹھایا اور جیل حکام کو نیا شوکاز نوٹس جاری کیا۔

عدالت نے متعلقہ مقدمے کی مزید سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کردی، جبکہ دوسرے معاملے میں 19 اکتوبر کو ویڈیو لنک پیشی کی ہدایت بھی کی گئی۔ موجودہ حکم بنیادی طور پر قانونی مشاورت تک رسائی سے متعلق ہے؛ عدالت نے اس سماعت میں الزامات کے درست یا غلط ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں دیا۔