مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے خطے میں رہائش پذیر تمام اسلحہ لائسنس ہولڈرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے لائسنس دس روز کے اندر قریبی پولیس اسٹیشن میں رجسٹر کرائیں۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام عوامی تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صدر آزاد جموں و کشمیر کی منظوری سے کیا گیا ہے۔ حکم کا اطلاق ہر قسم کے اسلحہ لائسنس پر ہوگا، خواہ وہ کسی بھی مجاز ادارے یا علاقے سے جاری کیا گیا ہو۔

نوٹیفکیشن کے تحت متعلقہ تھانے کا اسٹیشن ہاؤس افسر یا اس کا نامزد نمائندہ رجسٹریشن کے لیے پیش کیے جانے والے ہر لائسنس کی تفصیلات درج کرے گا اور لائسنس ہولڈر کو رجسٹریشن سلپ جاری کی جائے گی۔ پولیس اسٹیشنوں کو روزانہ کی بنیاد پر رجسٹر ہونے والے لائسنسوں کی مجموعی فہرست متعلقہ ڈپٹی کمشنر یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو بھیجنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔

حکومتی ہدایت میں واضح کیا گیا ہے کہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے دس روز کے اندر رجسٹر نہ ہونے والے لائسنس، ان کے مقام اجرا سے قطع نظر، منسوخ تصور کیے جائیں گے۔ اس مدت کے بعد اگر کسی شخص کے پاس ایسا ہتھیار یا گولہ بارود پایا گیا جس کا لائسنس نئے طریقہ کار کے تحت رجسٹر نہ ہوا ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔ نوٹیفکیشن میں گرفتاری اور ہتھیار ضبط کیے جانے کی تنبیہ بھی شامل ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آزاد کشمیر میں گزشتہ مہینوں کے دوران احتجاج، سیاسی کشیدگی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکام نے تازہ حکم کو عمومی امن و امان اور اسلحے کے ریکارڈ کی نگرانی سے جوڑا ہے۔ تاہم اس اقدام کا مقصد کسی مخصوص لائسنس ہولڈر کے خلاف الزام عائد کرنا نہیں بلکہ موجودہ لائسنسوں کی دوبارہ پولیس رجسٹریشن اور ریکارڈ کی یکجائی ہے۔

لائسنس ہولڈرز کے لیے عملی طور پر اہم تقاضا یہ ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اصل لائسنس اور متعلقہ شناختی معلومات کے ساتھ اپنے قریبی پولیس اسٹیشن سے رجوع کریں اور رجسٹریشن کی رسید محفوظ رکھیں۔ متعلقہ ضلعی حکام کو روزانہ موصول ہونے والی فہرستوں سے پورے خطے میں رجسٹرڈ اسلحے کا تازہ ریکارڈ مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔

حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق دس روز کی مہلت ختم ہونے کے بعد غیر رجسٹرڈ لائسنس کی قانونی حیثیت برقرار نہیں رہے گی۔ اس لیے شہریوں کے لیے مقررہ مدت اور پولیس رجسٹریشن کے تقاضے کی پابندی ضروری ہے، جبکہ کسی خلاف ورزی کی صورت میں گرفتاری، ضبطی یا دیگر کارروائی متعلقہ قانون اور انفرادی کیس کے حقائق کے مطابق ہوگی۔