پاکپتن: دیپالپور روڈ پر مسافر بس اور مخالف سمت سے آنے والے ٹرک کے تصادم میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوگئے۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق حادثہ 17 ایس پی اسٹاپ کے قریب پیش آیا، جہاں ملتان سے قصور جانے والی مسافر بس ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔ جاں بحق افراد میں ریسکیو 1122 سے وابستہ ایک اہلکار اور پیرا فورس کا ایک اہلکار بھی شامل بتایا گیا ہے۔

حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے تباہ شدہ گاڑیوں میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے کارروائی شروع کی۔ ریسکیو آپریشن میں بھاری مشینری اور کرینیں بھی استعمال کی گئیں تاکہ بس اور ٹرک کے ملبے تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ زخمیوں کو قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا، جبکہ شدید زخمیوں کے علاج کے لیے اضافی طبی انتظامات کیے گئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کی اور زخمی مسافروں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ان کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر پاکپتن آصف رضا ہسپتال پہنچے، جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پاکپتن میں ایمرجنسی نافذ کرکے اضافی ڈاکٹروں اور طبی عملے کو طلب کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔

حادثے کی فوری وجہ سے متعلق حتمی سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا، اس لیے ذمہ داری یا غفلت کے بارے میں کسی فریق کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ متعلقہ اداروں کی رپورٹ اور ممکنہ تفتیش سے تصادم کے حالات، گاڑیوں کی رفتار، تکنیکی حالت اور سڑک کی صورتحال سمیت دیگر عوامل واضح ہوں گے۔

ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں پنجاب بھر میں 44,797 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں کم از کم 464 افراد جان سے گئے اور 23,543 افراد شدید زخمی ہوئے۔ ان اعداد سے صوبے میں روڈ سیفٹی، ڈرائیونگ نظم و ضبط، گاڑیوں کی فٹنس اور ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق مسلسل خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پاکپتن کا تازہ حادثہ بھی اسی تناظر میں ایک سنگین واقعہ ہے اور اس کی مکمل وجوہ کا تعین متعلقہ حکام کی تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔