اسلام آباد: موسم سرما کے آغاز سے قبل وفاقی دارالحکومت میں متعدد شہریوں کو موسمی انفلوئنزا کی ویکسین حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کئی میڈیکل اسٹورز پر عام طور پر دستیاب رہنے والے معروف برانڈز موجود نہیں، جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبیداللہ ملک نے کہا ہے کہ چینی سینوویک ویکسین 15 نومبر تک مارکیٹ میں دستیاب کر دی جائے گی۔

رپورٹ میں شہریوں اور ایک فارماسسٹ کے بیانات شامل ہیں جن کے مطابق سینوویک، فرانسیسی ویکسین ویکسی گرپ اور امریکی انفلوویک اس موسم میں دستیاب نہیں ہو سکیں۔ ایک فارماسسٹ نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں اکتوبر کے دوران بڑی تعداد میں فلو ویکسین فروخت ہوتی تھی، لیکن اس سال اسے سپلائی حاصل نہیں ہوئی۔ یہ بیانات مارکیٹ میں دستیابی کی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم انہیں پورے ملک میں ہر فارمیسی کی یکساں صورتحال نہیں سمجھا جا سکتا۔

وزارت صحت کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قلت، ایران اور امریکا کی جنگ کے باعث نقل و حمل کے مسائل اور قیمتوں میں اضافے نے درآمدات کو متاثر کیا ہے۔ اہلکار کے مطابق ویکسی گرپ اور انفلوویک اس سال صارفین کو دستیاب ہونے کا امکان نہیں، جبکہ سینوویک کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دوسری جانب کہا کہ فلو ویکسین مارکیٹ میں موجود ہے لیکن بعض معروف برانڈز دستیاب نہیں ہیں۔

دستیاب ویکسین Virionza کے حوالے سے قیمت کا ایک الگ مسئلہ بھی رپورٹ ہوا ہے۔ پیک پر زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت 1,304 روپے درج ہے، جبکہ اسی پیک پر موجود ڈریپ بارکوڈ اسکین کرنے سے 654 روپے کی قیمت ظاہر ہو رہی ہے۔ وزارت صحت کے ایک اہلکار نے بارکوڈ نظام میں خرابی کا امکان ظاہر کیا، جبکہ وزیر صحت نے کہا کہ وہ قیمتوں کے اس فرق کی وجہ معلوم کریں گے۔ اس مرحلے پر یہ واضح نہیں کہ بارکوڈ میں درج رقم غلط ہے یا ریکارڈ کی کسی دوسری تکنیکی وجہ سے فرق پیدا ہوا ہے، اس لیے اسے کسی کمپنی کی خلاف ورزی کا ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

موسمی فلو کی ویکسین بالخصوص معمر افراد اور پیچیدگیوں کے زیادہ خطرے والے لوگوں کے لیے اہم حفاظتی ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ امریکی مراکز برائے امراض کنٹرول و روک تھام کے مطابق سالانہ موسمی فلو ویکسین انفلوئنزا اور اس کی ممکنہ سنگین پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے کا مؤثر طریقہ ہے۔ پاکستان میں موجودہ مسئلہ بنیادی طور پر مخصوص ویکسین برانڈز کی بروقت فراہمی اور قیمتوں کی شفاف معلومات سے متعلق ہے۔

ڈریپ کی جانب سے 15 نومبر تک سینوویک کی دستیابی کا وعدہ اس صورتحال میں اہم اگلا مرحلہ ہوگا۔ اس کے ساتھ قیمتوں کے بارکوڈ نظام کی درستگی اور مارکیٹ میں دستیاب اسٹاک کی نگرانی بھی ضروری ہوگی تاکہ صارفین کو مستند قیمت اور ویکسین کی دستیابی سے متعلق واضح معلومات مل سکیں۔