لاہور: پنجاب کے ای چالان نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور گاڑی کی شناخت کے طریقہ کار سے متعلق لاہور ہائیکورٹ میں ایک سول متفرق درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے زیر سماعت آئینی درخواست میں اضافی مواد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بعض ٹریفک جرمانے گاڑی کی مکمل شناخت اور آزاد انسانی تصدیق کے بغیر جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے ایسے شہری بھی متاثر ہو سکتے ہیں جن کی گاڑی نے متعلقہ خلاف ورزی نہ کی ہو۔ یہ نکات درخواست گزار کے الزامات ہیں اور عدالت نے ابھی ان پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

درخواست میں گجرات کے ایک شہری کی مثال دی گئی ہے جس کی 2018 ماڈل گاڑی کے نام پر لاہور میں مبینہ ٹریفک خلاف ورزیوں کے پانچ ای چالان جاری ہوئے۔ درخواست گزار کے مطابق چالان کے ساتھ منسلک تصاویر میں دکھائی دینے والی گاڑی کا ماڈل اس شہری کی گاڑی سے مختلف تھا، جبکہ شہری کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ تاریخوں میں اس کی گاڑی لاہور میں موجود ہی نہیں تھی۔ درخواست میں ایک وکیل کی ملکیت والی گاڑی کے چار دیگر ای چالان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن کی مجموعی رقم 11 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔

درخواست گزار کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ نمبر پلیٹ کو واحد شناختی بنیاد بنانا کافی نہیں، کیونکہ گاڑی کا میک، ماڈل اور رنگ بھی خودکار نظام میں ملایا جانا چاہیے۔ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ای چالان پر کسی افسر کا نام درج ہونا بذات خود آزاد انسانی جانچ کا ثبوت نہیں بنتا۔ درخواست میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ نظام میں شفافیت، جواب دہی، انسانی تصدیق اور متاثرہ موٹر سوار کے لیے مؤثر سماعت یا اعتراض کا طریقہ یقینی بنایا جائے۔

درخواست میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ غیر ادا شدہ ای چالان گاڑی ضبط ہونے، ملکیت کی منتقلی میں رکاوٹ یا ٹوکن ٹیکس سے متعلق مسائل کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے غلط شناخت کی صورت میں شہری کو فوری اور قابل رسائی اصلاحی راستہ دستیاب ہونا چاہیے۔ درخواست گزار کے مطابق ٹیکنالوجی کا مقصد شہری سہولت اور قانون کے نفاذ کو بہتر بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ تصدیق کے بغیر سزا دینا۔

معاملہ اب عدالتی جانچ کے مرحلے میں ہے۔ عدالت کی جانب سے متعلقہ حکام کا مؤقف سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ موجودہ ای چالان نظام میں قانونی یا انتظامی خامیاں ثابت ہوتی ہیں یا نہیں اور اگر ہوتی ہیں تو انہیں دور کرنے کے لیے کیا اقدامات درکار ہوں گے۔