الجزائر: الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے دونوں عرب ممالک کے درمیان کئی برس سے بڑھتی کشیدگی باضابطہ سفارتی بحران میں تبدیل ہو گئی۔ الجزائر کی حکومت نے اپنے فیصلے کی وجہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے مبینہ طور پر مسلسل ’اشتعال انگیز یا دشمنانہ‘ اقدامات کو قرار دیا، تاہم اعلان میں کسی ایک فوری واقعے کو تعلقات ختم کرنے کی مخصوص وجہ نہیں بتایا گیا۔
الجزائر کی وزارت خارجہ کے مطابق تعلقات محفوظ رکھنے کے دستیاب ذرائع ختم ہو چکے تھے اور حکومت نے اسی بنیاد پر سفارتی روابط منقطع کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ الجزائر کا سرکاری مؤقف ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بعد میں کہا کہ اسے امید ہے الجزائر کا فیصلہ عارضی ہوگا اور ابوظبی دونوں ممالک کے عوام اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
دونوں ملکوں کے تعلقات گزشتہ برسوں میں مختلف علاقائی معاملات پر خراب ہوتے رہے ہیں۔ الجزائر کے بعض سرکاری اور میڈیا حلقوں نے متحدہ عرب امارات پر شمالی افریقہ اور ساحل کے خطے میں ایسے کردار کا الزام لگایا ہے جو الجزائر کے سکیورٹی اور سفارتی مفادات سے متصادم ہے۔ دوسری طرف متحدہ عرب امارات نے عمومی طور پر علاقائی مداخلت سے متعلق کئی الزامات کو مسترد کیا ہے۔ اس لیے پس منظر میں موجود دعوؤں کو فریقین کے متنازع مؤقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
سفارتی تعلقات کا مکمل خاتمہ عام طور پر سفارت خانوں کی سرگرمیوں، قونصلر رابطوں اور سرکاری سطح کی براہ راست بات چیت پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم تجارت، سرمایہ کاری، شہریوں کی آمدورفت اور موجودہ معاہدوں پر عملی اثرات کا انحصار دونوں حکومتوں کی آئندہ ہدایات اور ممکنہ ثالثی کوششوں پر ہوگا۔
الجزائر شمالی افریقہ کی ایک بڑی توانائی برآمد کرنے والی ریاست ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات خلیج کا اہم تجارتی اور مالیاتی مرکز ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات عرب دنیا اور افریقی خطے میں مختلف سیاسی و سکیورٹی معاملات سے جڑے وسیع تر سفارتی تناؤ کا حصہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔
ابوظبی کی جانب سے فیصلے کو عارضی رہنے کی امید ظاہر کرنے سے مذاکرات یا کسی تیسرے فریق کی ثالثی کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ تاہم فی الحال مصدقہ صورتحال یہی ہے کہ الجزائر نے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے اور کسی بحالی کے لیے نئی سرکاری پیش رفت درکار ہوگی۔




