نیویارک: ایمیزون کے چیف ایگزیکٹو اینڈی جیسی نے کہا ہے کہ کمپنی کے کلاؤڈ یونٹ Amazon Web Services کی کمپیوٹنگ صلاحیت 2027 تک بڑی حد تک فروخت یا پہلے سے مختص ہو چکی ہے، جبکہ کچھ بڑے صارفین کے وعدے 2028 تک پھیلے ہوئے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق جیسی نے ایک ویڈیو پوڈکاسٹ میں بتایا کہ مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریوں اور کاروباری اداروں کی جانب سے انفراسٹرکچر کی طلب اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ کمپنی کے لیے اس رفتار کے مطابق نئی صلاحیت شامل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
AWS دنیا کے سب سے بڑے کلاؤڈ کمپیوٹنگ پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے اور اے آئی ماڈلز کی تربیت و استعمال کے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز، نیٹ ورکنگ اور کمپیوٹنگ وسائل فراہم کرتا ہے۔ جنریٹو اے آئی کی تیز رفتار توسیع کے بعد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے چپس، بجلی، ڈیٹا سینٹرز اور متعلقہ انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ جیسی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین صرف موجودہ ضرورت نہیں بلکہ کئی سال آگے کی کمپیوٹنگ صلاحیت بھی محفوظ کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق جیسی نے Andreessen Horowitz کے شریک بانی بین ہورووٹز اور جنرل پارٹنر ایرک ٹورن برگ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اے آئی لیبز اور بڑے کاروباری صارفین کی طلب غیر معمولی ہے۔ کمپنی کے لیے چیلنج یہ ہے کہ نئے ڈیٹا سینٹرز، بجلی کے کنکشن اور مہنگے کمپیوٹنگ ہارڈویئر کو اس رفتار سے تیار کیا جائے جس رفتار سے آرڈرز آ رہے ہیں۔
یہ صورتحال وسیع تر اے آئی صنعت کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ محدود کلاؤڈ صلاحیت نئی کمپنیوں اور چھوٹے صارفین کے لیے کمپیوٹنگ لاگت اور دستیابی کو متاثر کر سکتی ہے۔ دوسری طرف بڑے پیمانے پر پیشگی بکنگ ایمیزون کو مستقبل کی آمدنی کے بارے میں نسبتاً بہتر منظر فراہم کرتی ہے، اگرچہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کے منافع اور بجلی کی دستیابی سے متعلق سوالات برقرار رہیں گے۔ جیسی کا بیان اے آئی انفراسٹرکچر کی عالمی طلب میں جاری تیزی کا ایک واضح اشارہ ہے۔

