ایتھنز: یونان کی پارلیمان نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور کر لیا ہے، جس کے تحت آن لائن پلیٹ فارمز کو صارفین کی عمر کی تصدیق کرنا ہوگی۔ اے ایف پی کے مطابق قانون یکم جنوری 2027 سے نافذ ہونے کے لیے مقرر ہے اور قواعد پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں کے لیے سخت سزاؤں کی شقیں رکھی گئی ہیں۔
وزیراعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے اپریل میں اس پابندی کا منصوبہ پیش کیا تھا اور اسے بچوں کے تحفظ کے لیے مشکل مگر ضروری اقدام قرار دیا تھا۔ پارلیمان میں جمعرات سے جمعہ تک جاری رہنے والی بحث کے بعد حکمران قدامت پسند جماعت نیو ڈیموکریسی نے اپنی اکثریت کی بنیاد پر بل منظور کرایا۔ رپورٹ کے مطابق کسی دوسری جماعت نے بل کی حمایت نہیں کی۔
مرکزی اپوزیشن کی سوشلسٹ جماعت پاسوک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ پاسوک نے متبادل تجویز پیش کی تھی جس میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے مکمل پابندی اور 13 و 14 سال کے بچوں کے لیے والدین کی نگرانی کا نظام تجویز کیا گیا تھا۔ دیگر بائیں بازو اور قوم پرست جماعتوں نے قانون کی مخالفت میں ووٹ دیا۔
نئے قانون کا بنیادی عملی پہلو عمر کی تصدیق ہے، کیونکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مقررہ عمر سے کم صارفین ان کی خدمات تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔ قانون کی مؤثریت کا بڑا امتحان بھی یہی ہوگا کہ عمر کی تصدیق کس حد تک قابل اعتماد، قابل نفاذ اور صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ رہتی ہے۔
یونان اس معاملے میں عالمی رجحان کا حصہ بن گیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق آسٹریلیا نے گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اس نوعیت کی پابندی متعارف کرانے والا پہلا ملک بننے کا قدم اٹھایا تھا، جبکہ 20 سے زیادہ ممالک نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مختلف قانونی پابندیاں منظور کر چکے ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات بچوں کو نشہ آور انداز میں ڈیزائن کیے گئے الگورتھمز اور ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم کے ممکنہ نقصانات سے بچا سکتے ہیں، جبکہ ناقدین آزادی اظہار، رازداری اور عملی نفاذ کے مسائل اٹھاتے ہیں۔

