اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات کے دوران مصنوعی ذہانت کے ممکنہ غلط استعمال کو محدود کرنے کے لیے 2023 کے انتخابی ضابطہ اخلاق میں ترامیم تجویز کی ہیں۔ مجوزہ قواعد سیاسی جماعتوں اور امیدواروں، میڈیا اداروں اور انتخابی مبصرین کے لیے اے آئی سے تیار یا تبدیل کیے گئے مواد کی شناخت، شفافیت اور ذمہ داری کے اصول متعین کرتے ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق الیکشن کمیشن نے مجوزہ ترامیم پر عوام اور متعلقہ فریقوں سے 20 نومبر تک رائے طلب کی ہے۔ مسودے کا بنیادی مقصد گمراہ کن ڈیپ فیک مواد، مصنوعی آوازوں اور تصاویر کے ذریعے ووٹروں کو دھوکا دینے اور آن لائن مباحثے میں مصنوعی مداخلت کو روکنا ہے۔

میڈیا اداروں کے لیے تجویز ہے کہ اے آئی سے تیار یا نمایاں طور پر تبدیل کیے گئے انتخابی مواد کو نشر یا شائع کرتے وقت واضح طور پر اس کی نشاندہی کی جائے۔ میڈیا اے آئی کو ترجمے، تیاری، پیشکش یا تجزیے میں استعمال کر سکے گا، لیکن مواد کی درستگی اور صداقت کی ذمہ داری ادارے پر برقرار رہے گی۔ ریگولیٹری اداروں کو غیر ظاہر شدہ اے آئی مواد کی نگرانی اور خلاف ورزیوں کی رپورٹ الیکشن کمیشن کو دینے کا کردار بھی تجویز کیا گیا ہے۔

سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے بغیر لیبل اے آئی مواد، گمراہ کن ڈیپ فیک تصاویر، ویڈیوز یا آڈیو اور ووٹروں کو کسی شخص کے قول یا فعل کے بارے میں غلط تاثر دینے والے مصنوعی مواد پر پابندی کی تجاویز شامل ہیں۔ اے آئی بوٹس، خودکار اکاؤنٹس اور جعلی آن لائن رجحانات کے ذریعے عوامی تاثر میں مصنوعی ردوبدل کو بھی ممنوع قرار دینے کی تجویز ہے۔ روبوکال یا آواز کی نقل پر مبنی پیغامات میں آغاز ہی میں اے آئی استعمال ہونے کا واضح انکشاف کرنا ہوگا۔

انتخابی مبصرین کو اے آئی سے متعلق ممکنہ مداخلت پر نظر رکھنے اور فوری طور پر الیکشن کمیشن کو رپورٹ کرنے کی ذمہ داری دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ انہیں اپنی مشاہداتی رپورٹس، تصاویر، ویڈیوز یا حقائق کو اے آئی سے تخلیق یا تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ قواعد ابھی مجوزہ مرحلے میں ہیں اور حتمی شکل عوامی و ادارہ جاتی آرا کے بعد سامنے آئے گی۔