اسلام آباد: پاکستان کی فوجی ڈرون ٹیم نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ بین الاقوامی ملٹری ڈرون ٹیم مقابلے میں مجموعی طور پر دوسری پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق مقابلے میں 33 ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی، جس میں میزبان ترکیہ پہلے، پاکستان دوسرے، اٹلی تیسرے اور فرانس چوتھے نمبر پر رہا۔

انفرادی مقابلوں میں پاکستانی ٹیم کے کیپٹن طلحہ نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی اور سو سے زائد بین الاقوامی پائلٹس کے درمیان دوسری پوزیشن حاصل کرکے سلور میڈل جیتا۔ یہ نتیجہ ایسے شعبے میں سامنے آیا ہے جہاں ڈرون آپریشن، پائلٹنگ، مشن کی درست تکمیل اور تکنیکی مہارت جدید دفاعی تربیت کا تیزی سے اہم حصہ بن رہی ہے۔

مقابلے میں مختلف ممالک کی شرکت نے اسے محض دوطرفہ یا علاقائی سرگرمی کے بجائے وسیع بین الاقوامی سطح کا ایونٹ بنایا۔ پاکستان کی مجموعی دوسری پوزیشن اور انفرادی سلور میڈل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم نے متعدد مراحل میں مسلسل کارکردگی دکھائی۔ دستیاب سرکاری رپورٹ میں مقابلے کے تمام تکنیکی مراحل، اسکورنگ نظام یا استعمال ہونے والے ڈرون پلیٹ فارمز کی تفصیل جاری نہیں کی گئی، اس لیے کارکردگی کا جائزہ اعلان کردہ نتائج تک محدود ہے۔

ترکیہ حالیہ برسوں میں بغیر پائلٹ فضائی نظام اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں مقام بنا چکا ہے، اور انقرہ میں ہونے والا یہ مقابلہ مختلف ملکوں کی فوجی ٹیموں کو عملی مہارت کے تقابل کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون پہلے ہی مختلف شعبوں میں موجود ہے، تاہم اس مخصوص مقابلے میں پاکستانی ٹیم کی کامیابی کو الگ پیشہ ورانہ کارکردگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستانی ٹیم کی دوسری پوزیشن دفاعی ٹیکنالوجی میں انسانی مہارت، تربیت اور ڈرون آپریشنز کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جدید عسکری ماحول میں بغیر پائلٹ نظام نگرانی، معلومات کے حصول اور دیگر متعدد مشنز میں استعمال ہوتے ہیں، جس کے باعث پائلٹس اور تکنیکی ٹیموں کی تربیت مسلسل اہم ہو رہی ہے۔ اس کامیابی کے بعد پاکستان کے لیے اصل فائدہ تب ہوگا جب بین الاقوامی مقابلوں سے حاصل تجربے کو تربیتی معیار، محفوظ آپریشن اور مقامی تکنیکی صلاحیت بہتر بنانے میں استعمال کیا جائے۔