پاکستان کی انسداد منشیات فورس نے کہا ہے کہ اس کی جانب سے امریکی اور سری لنکن حکام کو فراہم کردہ معلومات کے نتیجے میں کراچی اور کولمبو کی بندرگاہوں پر مجموعی طور پر 671 کلوگرام میتھ ایمفیٹامین، جسے عام طور پر آئس کہا جاتا ہے، ضبط کی گئی۔ اے این ایف کے بیان کو ڈان نے چار ستمبر 2026 کو رپورٹ کیا، تاہم کارروائی سے متعلق پاکستانی اور سری لنکن بیانات میں نیٹ ورک کی شناخت اور کولمبو سے ملنے والی مقدار کے بارے میں کچھ فرق موجود ہے۔
اے این ایف کے مطابق قابلِ عمل انٹیلی جنس کی بنیاد پر پہلے کراچی پورٹ پر ایک کنٹینر سے 200 کلوگرام آئس پکڑی گئی۔ فورس نے کہا کہ اس کارروائی میں مبینہ نیٹ ورک کے سرغنہ کو بھی حراست میں لیا گیا، جس کی شناخت احسان اللہ نامی افغان شہری کے طور پر کی گئی، جبکہ مقامی سہولت کاروں کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا گیا۔ بیان میں گرفتار افراد کے خلاف مقدمات، فردِ جرم یا عدالتی فیصلوں کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی گئی؛ اس لیے ان کی مبینہ ذمہ داری تفتیشی دعوے کی سطح پر ہے۔
اے این ایف کا کہنا ہے کہ زیر حراست مبینہ سرغنہ سے تفتیش کے بعد اہم معلومات سری لنکن حکام اور امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے ساتھ شیئر کی گئیں۔ فورس کے مطابق انہی معلومات پر کولمبو پورٹ پر مشترکہ کارروائی ہوئی اور تولیوں میں چھپائی گئی 471 کلوگرام میتھ ایمفیٹامین ضبط کی گئی۔ اے این ایف نے نیٹ ورک کو افغانستان میں قائم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سرزمین کو بین الاقوامی منڈیوں کے لیے عبوری راستے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔
دوسری جانب سری لنکن پولیس اور کولمبو میں امریکی سفارت خانے نے دو ستمبر کو اس کارروائی کو ایک پاکستانی منشیات نیٹ ورک کے خلاف آپریشن قرار دیا تھا۔ سری لنکن پولیس کے ایک سینئر افسر نے تقریباً 463 کلوگرام آئس ضبط ہونے اور دو پاکستانی مردوں کی گرفتاری کی اطلاع دی، جبکہ ایک مقامی شخص کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا گیا۔ امریکی سفارت خانے نے منشیات کی تخمینی مالیت 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بتائی اور کہا کہ کھیپ سری لنکا کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچائی جانی تھی۔
یوں اے این ایف کی بتائی ہوئی کولمبو مقدار 471 کلوگرام ہے، جبکہ سری لنکن پولیس کی ابتدائی بریفنگ میں تقریباً 463 کلوگرام کا عدد سامنے آیا۔ اسی طرح اے این ایف نے نیٹ ورک کو افغانستان میں قائم بتایا، مگر امریکی اور سری لنکن اعلان میں اسے پاکستانی نیٹ ورک کہا گیا۔ دستیاب رپورٹس ان اختلافات کی حتمی وضاحت نہیں کرتیں، اس لیے دونوں سرکاری مؤقف الگ الگ نسبت کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے۔
سری لنکن حکام کے مطابق امریکی ڈی ای اے اور سری لنکا پولیس نارکوٹکس بیورو نے 14 سے 29 اگست کے درمیان پاکستان سے روانہ ہونے والے کنٹینرز کی نگرانی کے بعد مشترکہ کارروائی کی۔ یہ معلومات اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ معاملہ کئی ملکوں کی ایجنسیوں کے درمیان تعاون سے آگے بڑھا، مگر یہ کسی مخصوص گرفتار شخص کے جرم کو عدالتی طور پر ثابت نہیں کرتیں۔
اے این ایف نے کہا کہ سری لنکن حکام اور امریکی ڈی ای اے نے پاکستانی فورس کے کردار کو تسلیم کیا ہے۔ اس دعوے کا بنیادی ماخذ اے این ایف کا اپنا بیان ہے۔ کارروائی میں مبینہ طور پر ضبط شدہ منشیات، گرفتار ملزمان اور بین الاقوامی رابطوں کے بارے میں مزید واضح تصویر فردِ جرم، فرانزک نتائج اور متعلقہ ملکوں کی عدالتی کارروائی سامنے آنے پر بنے گی۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ کراچی اور کولمبو میں الگ کارروائیاں ہوئیں، بڑی مقدار میں میتھ ایمفیٹامین ضبط کی گئی اور متعدد افراد گرفتار ہوئے۔ نیٹ ورک کی قومی یا جغرافیائی شناخت اور کولمبو کی حتمی مقدار کے بارے میں مختلف سرکاری بیانات موجود ہیں، جنہیں کسی حتمی عدالتی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔




