بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں مجوزہ 11,200 میگاواٹ سیانگ اپر ملٹی پرپز ہائیڈرو پاور منصوبے کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ریاستی حکام کے مطابق پتھراؤ سے تقریباً 40 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ایک پولیس اسٹیشن، سرکاری ہائیڈرو پاور کمپنی این ایچ پی سی کے دفتر اور بعض دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

اروناچل پردیش کے وزیراعلیٰ پیما کھانڈو نے صحافیوں کو بتایا کہ احتجاج کے دوران ہجوم نے متعدد عمارتوں اور منتخب نمائندوں کی رہائش گاہوں کو بھی نشانہ بنایا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کے مخالفین سے تشدد کے بجائے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی اپیل کی ہے۔

مجوزہ سیانگ منصوبہ بھارت کے سب سے بڑے پن بجلی منصوبوں میں شامل ہوگا۔ نئی دہلی اسے چین کی جانب سے تبت میں دریائے یارلنگ سانگپو پر بنائے جانے والے بڑے یاشیا ہائیڈرو پاور منصوبے کے تناظر میں بھی اہم قرار دیتا ہے۔ بھارتی حکام کو خدشہ ہے کہ بالائی حصے میں چینی منصوبہ مستقبل میں پانی کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس کے منصوبے سے زیریں علاقوں پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

مقامی آبادی کی ایک بڑی تشویش زمین، گھروں اور روایتی علاقوں کے ممکنہ نقصان سے متعلق ہے۔ منصوبے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ بڑے ذخیرے اور تعمیراتی سرگرمیوں سے مقامی برادریاں بے گھر ہو سکتی ہیں اور ماحول پر طویل مدتی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ منصوبہ پانی ذخیرہ کرنے، توانائی پیدا کرنے اور ممکنہ بالائی آبی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دے گا۔

یہ تنازع ایسے خطے میں سامنے آیا ہے جہاں بھارت اور چین کے درمیان سرحدی اختلافات بھی موجود ہیں۔ اس لیے منصوبہ محض توانائی اور مقامی ترقی کا مسئلہ نہیں بلکہ آبی سلامتی اور جغرافیائی سیاست سے بھی جڑا ہوا ہے۔ احتجاج میں نقصان اور زخمیوں سے متعلق اعداد سرکاری حکام سے منسوب ہیں، جبکہ منصوبے کے سماجی و ماحولیاتی اثرات پر حتمی رائے متعلقہ جائزوں اور قانونی عمل کے بعد ہی قائم کی جا سکتی ہے۔