ویٹیکن سٹی: پوپ لیو نے اتوار کو یمن میں جاری تشدد فوری طور پر ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 71 سالہ پوپ نے سینٹ پیٹرز اسکوائر کی جانب کھلنے والی ویٹیکن کی کھڑکی سے خطاب کیا، جو پھیپھڑے کے کینسر کی سرجری کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے بعد ان کی پہلی عوامی تقریر تھی۔

پوپ نے خاص طور پر جنوب مغربی یمن کے شہر تعز کی انسانی صورتحال پر تشویش ظاہر کی، جہاں ان کے مطابق شہری خوراک، پانی اور طبی امداد کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے فریقین سے دشمنی اور لڑائی روکنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یمن اور وسیع تر خطے کے لوگوں کو امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن سے سعودی عرب کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں اور جوابی کارروائیوں نے علاقائی کشیدگی بڑھا دی ہے۔

رائٹرز کے مطابق پوپ لیو نے اردن میں آرتھوڈوکس مسیحیوں کے خلاف جمعے کو ہونے والے دہشت گرد حملے میں ہلاک اور زخمی افراد کے لیے بھی دعا کی۔ انہوں نے اردن میں مختلف مذاہب کے درمیان پرامن بقائے باہمی کا ذکر کرتے ہوئے متاثرہ برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

پوپ نے اٹلی کے شہر اسیسی میں منگل کو ہونے والے مذہبی رہنماؤں کے امن اجلاس کے لیے بھی دعاؤں کی اپیل کی۔ وہ خود اس اجتماع میں شریک ہونے والے تھے، تاہم ویٹیکن نے بتایا کہ ڈاکٹروں کے مشورے پر ان کا دورہ منسوخ کر دیا گیا تاکہ صحت یابی کا عمل متاثر نہ ہو۔

پوپ لیو کا 13 اکتوبر کو آپریشن ہوا تھا جس میں دائیں پھیپھڑے کا نچلا حصہ نکالا گیا۔ انہیں ایڈینوکارسینوما کی تشخیص ہوئی تھی۔ گزشتہ ہفتے ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ رسولی پھیلی نہیں اور مزید علاج کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اتوار کو وہ بغیر مدد کے کھڑکی تک پہنچے اور مجمع سے خطاب کیا۔ ان کی واپسی مذہبی اور سفارتی دونوں حوالوں سے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ ویٹیکن مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں مسلسل انسانی تحفظ اور مذاکرات پر زور دیتا رہا ہے۔